1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا میں نمازیوں پر حملہ ، متعدد ہلاک

نائجیریا میں نمازیوں سے بھری ایک مسجد میں ہوئے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم تیس افراد مارے گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری کے لیے انتہا پسند تنظیم بوکو حرام پر شبہ کیا جا رہا ہے۔

Nigeria Mubi Pfarrer Ndahi in seinem zerstörten Haus

بوکو حرام نامی تنظیم بورنو ریاست میں پہلے بھی حملے کر چکی ہے

خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ نائجیریا کے شمال مشرقی شہرمائیدے گورو کے نواح میں واقع ایک مسجد پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا، جب نمازی عبادت میں مصروف تھے۔ جمعرات کی رات ہوئے اس حملے کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

DW.COM

نائجیریا کی ایمرجسنی منجمنٹ ایجنسی (این ای ایم اے) کی طرف سے جمعے کے دن بتایا گیا ہے کہ بورنو ریاست میں ایک خود کش حملہ بھی کیا گیا، جس کے نتیجے مین چھ افراد مارے گئے۔ یہ اس خود کش حملے کا مسجد میں ہوئے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے (این ای ایم اے) کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملے خواتین خود کش حملہ آور نے کیے۔ اس کارروائی میں سترہ افراد زخمی بھی ہو گئے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ان حملوں کے بعد امدادی کاموں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور حقائق جاننے کے لیے تفتیشی عمل کیا جا رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ انتہا پسند بوکو حرام کی باغی تحریک نے بورنو ریاست میں ہی جنم لیا تھا۔ اس ریاست کے متعدد علاقوں میں یہ شدت پسند تواتر کے ساتھ حملے کرتے رہتے ہیں۔ مئی میں صدر محمد بخاری کے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد بھی اس جنگجو تحریک کے حملوں میں کمی نہیں آئی ہے۔ مئی سے اب تک ایسے ہی حملوں میں کم ازکم ایک ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جمعرات کو مسجد پر ہوا حملہ دراصل خود کش تھا لیکن اس بارے میں ابھی تک مکمل تفصیلات موصول نہیں ہو سکی ہیں۔ پولیس حکام نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چودہ بتائی ہے۔

Karte Nigeria mit den Regionen Born und Adamawa Deu

انتہا پسند بوکو حرام کی باغی تحریک نے بورنو ریاست میں ہی جنم لیا تھا

این ای ایم اے نے بتایا ہے کہ جمعرات کو مسجد پر ہوئی خونریز کارروائی کے بعد جمعے کے دن اس علاقے کے نزدیک ہی ایک خود کش حملہ کیا، جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس ابھی تک ان دونوں حملوں کے مابین کوئی تعلق تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کسی گروہ نے ابھی تک ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن پولیس کو شبہ ہے کہ ان کارروائیوں میں بوکو حرام کے جنگجو ملوث ہو سکتے ہیں۔ کچھ ذرائع نے ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیالیس بھی بتائی ہے۔