1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا میں دہشت گردانہ واقعہ، پچیس افراد ہلاک

نائجیریا کے شہر مائیدو گوری میں ایک بیئر گارڈن پر حملے میں کم از کم پچیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس حملے کے پیچھے مسلم انتہاپسند مذہبی تنظیم بوکو حرام کا ہاتھ ہے۔

default

مائدہ گوری میں دہشت گردی

فوج اور عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے شام کے وقت بیئر پینے کے ایک مقام کو نشانہ بنایا۔ فوج کا خیال ہے کہ اس وقوعہ میں حملہ آوروں کا اصل نشانہ مختلف مقامات پر متعین پولیس اہلکار تھے۔ مائیدوگوری کے ڈالا علاقے میں قائم اس بیئر گارڈن پر حملہ آوروں نے تین بم برسائے اور فائرنگ کی۔ اس دہشت گردانہ واقعہ کی مزید تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ حکام نے حملے کی ذمہ داری بوکو حرام پر ہی عائد کی ہے۔

چند روز قبل نائجیریا کے دارالحکومت ابوجہ میں پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر ایک بم دھماکے کی ذمہ داری بوکو حرام نے قبول کی تھی۔ افریقی ملک نائجیریا کے جنوب میں تیل کی دولت سے مالا مال علاقوں میں مسلح تحریک پہلے سے موجود ہے اور اب سینکڑوں میل دورانتہائی شمالی حصے میں بھی انتہاپسندوں نے مسلح تحریک شروع کردی ہے۔

انتہاپسند تنظیم بوکو حرام کی کارروائیوں پر گہری نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ شدت پسندانہ تحریک کی وجہ سے مائیدوگوری میں ساری آبادی منقسم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس انتہاپسند تنظیم کے بانی اور خود ساختہ اسلامی سکالر محمد یوسف سن 2009 کے مذہبی ہنگاموں کے دوران سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

Flash-Galerie Zahl der Toten in Nigeria höher als befürchtet

افریقی ملک نائجیریا میں مسلمان انتہاپسند تنظیم بوکوحرام کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے

نائجیریا کے حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے معاشرے میں پائی جانے والی بےچینی نے انتہاپسندی کو فروغ دیا ہے۔ ناقدین کے خیال میں ایک ناکام نظام تعلیم اور بڑھتی شرح بے روزگاری نے بھی انتہا پسندوں کے کام کو آسان بنا دیا ہے۔

بوکو حرام کے کارکن خاص طور پر پولیس اسٹیشنوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ تنظیم ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ اعتدال پسند مسلمان مذہبی علماء اور مختلف آبادیوں کے روایتی سردار ہوتے ہیں۔

بوکو حرام کی مسلح تحریک پر براعظم افریقہ سمیت عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اس تحریک کے رابطے صومالیہ کے انتہاپسندوں سے بھی ملتے ہیں۔ اس باعث نائجیریا کے ہمسایہ ممالک بھی پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے اگر نائجیریا میں معاشرتی اور اقتصادی رویوں میں انقلابی تبدیلیاں نہ پیدا کی گئی توانتہائی شمال مشرق سے اٹھنے والی یہ پرتشدد تحریک سارے ملک میں انتشار اور لاقانونیت کے فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس