1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا میں تشدد کے واقعات میں ایک سو افراد ہلاک

نائجیریا کے شمالی علاقوں میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تشدد کا آغاز شدت پسند اسلامی گروپ بوکو حرام کے مبینہ حملوں سے ہوا تھا۔

default

افریقہ کے اس سب سے گنجان آباد ملک کے شمال مشرقی شہروں داماتورو، میدوگوری اور پوتسکم میں تشدد کی کارروائیوں کا آغاز جمعرات کو مبینہ طور پر بوکو حرام کی جانب سے بم دھماکوں اور فائرنگ سے ہوا تھا جو اگلے روز تک جاری رہا۔

جمعے کو داماتورو میں فوجی ٹرک اور گاڑیاں پہنچیں اور تشدد زدہ علاقے کے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے کے لیے نصف گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ اس کے بعد فوج نے علاقے کا محاصرہ کر کے کارروائی شروع کر دی۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے نائجیریا کی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل Azubuike Ihejirika کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کی کارروائی میں بوکو حرام کے 59 اراکین کو ہلاک کر دیا گیا۔

دیگر ذ‌رائع نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں، انتہاپسندوں اور عام شہریوں کی تعداد سو کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

Anschlag Nigeria Sekte Boko Haram

نائجیریا کی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل Azubuike Ihejirika کا کہنا ہے کہ فوج کی کارروائی میں بوکو حرام کے 59 اراکین کو ہلاک کر دیا گیا

ہفتے کے روز بھی اکا دکا مقامات پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا مگر مجموعی طور پر صورت حال پر سکون ہے۔

اوپن سوسائٹی جسٹس انسٹیٹیوٹ کے سربراہ نے مرنے والوں کی تعداد 69 سے 100 کے درمیان بتائی ہے۔ انہوں نے فوج کی جانب سے طاقت کے غیر مناسب استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فوج پر ماضی میں بھی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ بوکو حرام کے مبینہ بم حملوں کے بعد شہریوں کی ہلاکت اور ان کے گھروں کو نذر آتش کرنے میں ملوث رہی ہے۔

بوکو حرام کے ایک خود ساختہ ترجمان نے تینوں شہروں میں تشدد کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی 2009ء میں تنظیم کے خلاف فوج کے وحشیانہ حملے کا انتقام لینے کے لیے کی گئی۔

Nigeria Anschläge

بوکو حرام نے نائجیریا کی ریاست کے خلاف بغاوت کا آغاز 2009ء میں کیا تھا

ابو الکاکا نامی ترجمان نے کہا: ’’ہم میدوگوری، داماتورو اور پوتسکم میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ہم نائجیریا کی ریاست کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ سیکولر نظام ترک کر کے اسلامی ریاست قائم نہیں کر دیتے۔‘‘

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتہاپسندوں کو پسپا کرتے ہوئے پوتسکم شہر کی جانب دھکیل دیا۔

بوکو حرام نے نائجیریا کی ریاست کے خلاف بغاوت کا آغاز 2009ء میں کیا تھا۔ اُس وقت فوج نے گروپ کے خلاف سخت کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں اس کے 800 اراکین ہلاک ہوئے تھے۔

اس تنظیم نے رواں برس اگست میں ملک کے دارالحکومت ابوجا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر پر ایک خود کش حملہ کیا تھا جس میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ نومبر میں اس نے داماتورو شہر میں مربوط انداز میں حملے کیے تھے جن میں 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM