1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا میں ایران نواز شیعہ تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی

نائجیریا میں تحریک اسلامی برائے نائجیریا نامی ایران نواز شیعہ تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ نائجیریا کی ریاست کادونا میں گزشتہ برس شیعہ مسلمانوں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔

نائجیریا کی ریاست کادونا نے اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کو ’سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے اس شیعہ تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ برس اس ریاست میں شیعہ مسلمانوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تین سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ برس دسمبر میں دو روز تک جاری رہنے والی پرتشدد جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ایران نواز رہنما ابراہیم زکزاکی نے اپنے زیراثر شہر ذاریا سے نائجیریا کے فوجی سربراہ کے قافلے کو گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

رواں برس اپریل میں حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نائجیریا کی فوج پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ان جھڑپوں کے دوران 300 شیعہ مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا تھا اور اپنے جرائم کے شواہد مٹانے کی کوشش بھی کی تھی۔

Nigeria Demo für die Freilassung von Ibraheem Zakzaky (picture alliance/AP Photo/M. Giginyu)

زکزاکی اس شیعہ تحریک کے رہنما ہیں

کادونا ریاست کی حکومت نے بھی بعد میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ فوج نے اس معاملے میں ’حد سے زیادہ طاقت کا استعمال‘ کیا جب کہ شہریوں کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمات قائم کیے جانا چاہیئں۔

تاہم جمعے کی شب کادونا ریاست کے گورنر ناصر الرُفائی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامک موومنٹ آف نائجیریا ملک کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس بیان کے مطابق، ’’کادونا ریاست کی حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کی معاشرے میں سرگرمیوں غیرقانونی ہیں۔‘‘

اس شیعہ تحریک کی جانب سے ریاستی حکومت کے اس حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کے ترجمان ابراہیم موسیٰ کا کہنا ہے، ‘‘ہم کادونا کی ریاستی حکومت کی جانب سے اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کے خلاف دیے گئے اس فیصلے پر ہرگز حیرت زدہ نہیں۔ جو آپ کے گھروں پر حملوں میں ملوث ہو، جو بغیر کسی وجہ کے سینکڑوں افراد کے قتل اور ان کے گھروں کی مسماری میں ملوث ہو، اس سے آپ اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔‘‘

موسیٰ نے مزید کہا، ’’ہم اس غیرقانونی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اسے قانونی راستے سے چیلنج کیا جائے گا۔‘‘