1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا مذہبی فسادات :خواتین کے احتجاجی مظاہرے

اتوار کے روز جوز شہر میں مذہبی فسادات میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے خلاف نائیجریا کی خواتین نے جمعرات کو دارالحکومت ابوجا میں مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں سینکڑوں خواتین نے شرکت کی۔

default

ان فسادات میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی

مظاہرے میں سیاہ پوُش خواتین حکومت سے عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اتوار کے روز ہونے والے فسادات میں جوز شہر کے قریب ایک سو نو افراد کو قتل کیا گیا، جن میں زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔

فسادات میں زندہ بچ جانے والے افراد نے خبررساں اداروں کو بتایا کہ مذہبی انتہاپسند عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو گھسیٹ گھیسٹ کر آگ میں جھونک رہے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد مسیحیوں کی ہے۔

فسادات کے عینی شاہد سام الامدا نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت میں کہا کہ فائرنگ کا سلسلہ مسلسل آدھے گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران اندھا دھند لوگوں کو قتل کیا گیا۔

Streit in Nigeria

حملہ آوروں نے متعدد مکانات کو نذر آتش کر دیا

’’وہ خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کر رہے تھے۔ میں خوفزدہ ہوگیا۔ میں لوگوں کی طرف دوڑا کہ انہیں بتاؤں کہ وہ لوگ یہاں آرہے ہیں۔ اس دوران فائرنگ کی آواز بہت زیادہ تھی اور یہ آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔‘‘

ایک اور عینی شاہد ماک لیٹبو نے ڈوئچے ویلے کو بتایا: ’’ہم یہ دیکھنے گئے کہ ہوا کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کئی مکانات جلا دیئے گئے تھے اور بے شمار افراد لاپتہ تھے۔‘‘

نائیجریا میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان فسادات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ہے۔ رواں برس جنوری میں اسی شہر میں سینکڑوں افراد ہلاک کئے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مسیحیوں پر یہ نئے حملے ممکنہ طور پر جنوری میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کا رد عمل ہو سکتے ہیں۔

مظاہرے میں خواتین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ہمارے مستقبل کا قتل عام بند کرو اور یہ قتل عام اب رک جانا چاہئے۔

احتجاج میں شریک خواتین نے مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل اور آم کے درختوں کی ٹہنیوں سے بنے کراس اٹھا رکھے تھے اور وہ نعرے لگا رہی تھیں کہ مزید فوجی نہیں۔

مقامی مسیحی رہنما ایستھر ایبانگا نے خبررساں اداروں سے بات چیت میں کہا کہ ہم عورتوں اور بچوں کے قتل عام کا سلسلہ بند کر دینے اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشورمصطفیٰ