1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا: فوجی بیرکس میں دھماکہ، بارہ افراد ہلاک

نائجیریا میں فوجی بیرکس میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ اتوار کو گُڈلک جوناتھن کی جانب سے صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ہوا ہے۔

default

یہ دھماکہ نائجیریا کے شمالی علاقے میں فوجی بیرکس کے اندر ایک مارکیٹ میں ہوا۔ پولیس کمشنر محمد انداباوا نے بتایا کہ یہ بیرکس بوشی شہر کے قریب واقع ہیں، جہاں یہ دھماکہ ایک مارکیٹ میں اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے ہوا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امدادی کارروائیوں میں شریک ایک کارکن نے بتایا ہے کہ بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پچیس زخمی ہیں۔ تاہم ہسپتال کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس دس لاشیں پہنچی ہیں، جن میں سے چار خواتین کی ہیں۔

نیشنل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی (این ای ایم اے) کے ترجمان یوشوا شعیب نے کہا: ’یہ بہت زور دار دھماکہ تھا۔‘

شعیب نے بتایا کہ دارالحکومت ابوجہ کے نواح میں زوبا کے مقام پر ایک بیئر پارلر میں بھی دھماکہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور اس کے نتیجے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

نائجیریا میں بعض فوجی بیرکس کے اندر چھوٹی مارکیٹیں بھی ہوتی ہیں، جہاں کاروباری افراد کو اشیائے خوردونوش سمیت دیگر سامان فروخت کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ بوشی کی بیرکس میں قائم یہ مارکیٹ شام کے اوقات میں مے نوشی کے لیے مقبول ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان بیرکس میں ہونے والے دھماکے سے صدر جوناتھن کو درپیش چیلنجز کا پتہ چلتا ہے۔ وہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک کے صدر بنے ہیں۔

NO FLASH Goodluck Jonathan Wahlen in Nigeria

نائجیریا کے صدر گُڈ لک جوناتھن

حالانکہ ان انتخابات کو گزشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے قابل اعتماد انتخابات قرار دیا جا رہا ہے لیکن ان سے ملک میں پائی جانے والی مذہبی اور نسلی منافرت بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔

گُڈ لک جوناتھن ایک مسیحی ہیں اور ان کا تعلق ملک کے جنوبی حصے سے ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ کے انتخابات میں شمالی علاقے کے مسلمان رہنما اور سابق فوجی سربراہ محمدو بوہاری کو شکست دی تھی۔ اس بات کا اعلان ہونے پر فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

جوناتھن نے اپنی حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں کہا: ’ہم کسی کو نسل اور زبان کے فرق کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس