نائجیریا: دو برس قبل اغوا کی گئی لڑکیوں میں سے ایک بازیاب | حالات حاضرہ | DW | 19.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا: دو برس قبل اغوا کی گئی لڑکیوں میں سے ایک بازیاب

افریقی ملک نائجیریا میں بوکوحرام کے انتہا پسندوں نے دو برس قبل دو سے زائد لڑکیاں اغوا کر لی تھیں۔ ان میں سے ایک حاملہ لڑکی کے ملنے کی تصدیق والدین کے گروپ اور مقامی حکام نے کر دی ہے۔

default

مغوی لڑکیوں کے اغوا کے دو برس مکمل ہونے پر لڑکیوں کی یاد میں سرخ ربن باندھدنے والی ایک ماں

نائجیریا میں دو برس قبل شدت پسند گروپ بوکوحرام کی طرف سے اغواء کی گئیں 219 لڑکیوں میں سے پہلی لڑکی واپس مل گئی ہے۔ یہ بات بچیوں کے والدین کے ایک ترجمان نے بتائی ہے۔ بوکوحرام نے ان لڑکیوں کو 14 اپریل 2014ء کو چیبوک کے سرحدی قصبے کے ایک بورڈنگ اسکول سے اغواء کیا تھا۔ اغوا کی گئی لڑکیوں کے والدین کی ایسوسی ایشن کی سیکرٹری لاوان زانا نے ٹیلیفون پر تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ لڑکی ایک چھوٹے بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔

Nigeria Jahrestag Entführte Schulmädchen Boko Haram

مغوی لڑکیوں کی یاد میں سرخ ربن باندھ کر ان کو یاد کیا جا رہا ہے

چیبوک کمیونٹی کے چیرمین ہوسیس سامبیڈو نے بھی لڑکی کی دستیابی کی تصدیق کی ہے۔ اغواء شدہ لڑکی کیمرون کی سرحد کے قریب گھنے جنگلات کے علاقے سامبیسا سے کل منگل، سترہ مئی کو ملی تھی۔ ہوسیس نے اُن حالات کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جن میں یہ لڑکی ان جنگلات سے ملی۔ مقامی کمیونٹی کے سربراہ نے بتایا کہ لڑکی کا پورا نام آمنہ علی دراشا ہے اور یہ کُولاکاشا کے مقام سے ملی ہے، جو جنگل کے شروع ہونے کی بیرونی حد ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فوجی حکام لڑکی کو اپنی تحویل میں لے کر دامبوا ملٹری مرکز لے گئے ہیں۔ اغوا کے وقت لڑکی سترہ برس کی تھی۔

اغوا کی گئی ٹین ایجرز لڑکیوں کے والدین کی ایسوسی ایشن کی سیکرٹری لاوان زانا نے بتایا ہے کہ دستیاب ہونے والی بچی کو فوجی حکام اپنی تحویل میں لے کر دامبوا فوجی مرکز کے مقامی کمانڈر کی رہائش گاہ پر سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے اور ملنے والے صرف اُسے مبارک باد کے پیغام دے سکتے ہیں۔ آمنہ سے مغوی بنائے جانے کے دور کے بارے میں کوئی بات یا سوال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ نائجیریا کی ریاست بورنو کے گورنر قاسم شیٹیما نے بتایا ہے کہ دستیاب ہونے والی لڑکی کو فوری طور پر ریاستی دارالحکومت میدوگوری منتقل کر دیا جائے گا۔

Nigeria Afrika Soldat steht in einem Türrahmen eines zerstörten Gebäudes

چیبوک کے اسکول میں پہرا دینے والا ایک فوجی

آمنہ علی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اغوا کی گئی لڑکیاں اب بھی سامبیسا کے جنگل میں قائم ایک کیمپ میں رکھی ہوئی ہیں اور اُن کی انتہائی سخت حفاظت پر کئی مسلح محافظ موجود ہیں۔ لڑکی کے مطابق وہ کسی نہ کسی طریقے سے کیمپ میں سے نکلنے میں کامیابی کے بعد جنگل کے باہر پہنچ پائی تھی۔ لڑکی نے اپنے والدین سے بھی ملاقات کی ہے۔ ایک مقامی شخص سامبڈو ابانا کے مطابق ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ لڑ کی نے اغواکاروں کے کیمپ میں بچے کو جنم دیا ہے۔ آمنہ علی نے یہ بھی بتایا کہ کم از کم چھ بچیاں کیمپ میں فوت ہو چکی ہیں۔

بوکوحرام کے خلاف نائجیریا کے موجودہ صدر محمد بخاری نے بھرپور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اُن کو قریبی ہمسایہ ممالک کیمرون اور نائجر کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اِس مسلمان انتہا پسند تنظیم کی قوت خاصی کچلی جا چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق لڑکی کی دستیابی سے امکان پیدا ہو گیا ہے کہ صدر بخاری اب بقیہ ٹین ایجرز لڑکیوں کی تلاش کی کوشش تیز کر دیں گے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں ان بچیوں کی بازیابی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ بوکوحرام نے کُل 274 لڑکیاں اغوا کی تھیں اور اُن میں کچھ درجن اغواکاروں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب بھی ہوئی تھیں لیکن اب بھی انتہا پسندوں کے قبضے میں 219 ٹین ایجر بچیاں ہیں۔

DW.COM