1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا: انتخابات میں اقتصادی خلیج کی عکاسی

افریقی ملک نائجیریا کے اہم انتخابی سلسلے میں آج ریاستی گورنروں کو چُنا جا رہا ہے۔ اس مسلم اکثریتی آبادی والے ملک کے صدارتی انتخاب میں ایک مسیحی رہنما کی جیت کے بعد سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

default

نائجیریا کا شمار افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر ہوتا ہے جہاں لگ بھگ 16 کروڑ انسان بستے ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق اس مغربی افریقی ملک کی 50 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ 48 فیصد مسیحی ہیں، جو بالترتیب ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں اکثریت رکھتے ہیں۔ 16 اپریل کے صدارتی انتخابات میں گُڈ لک جوناتھن نامی امیدوار کو فاتح قرار دیے جانے کے بعد سے ملک کے شمالی علاقوں میں زیادہ کشیدگی دیکھی جارہی ہے۔ اب تک قریب 500 افراد انتخابات سے متعلق یا ان کے بعد ہونے والے ہنگاموں کی نذر ہوچکے ہیں۔

ریاستی سربراہ کے لیے ہونے والے ان انتخابات کو بعض مبصرین اب تک کے شفاف ترین انتخابات قرار دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود شمالی حصے کی بے چینی کو شمال اور جنوب کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی خلیج کی عکاس کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تیل کی صنعت کی بدولت مسیحی اکثریتی آبادی والا جنوبی حصہ مسلم اکثریتی آبادی والے شمال کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہے۔ نائجیریا بر اعظم افریقہ میں تیل کی پیداوار کے حوالے سے سر فہرست ملک ہے۔

Nigeria Unruhen Wahlen Jugendliche NO FLASH

36 ریاستوں میں گورنر کے انتخاب کے موقع پر فوج متعین کی گئی ہے۔ مبصرین کے اندازوں کے مطابق برسر اقتدار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کئی ریاستوں میں شکست سے دوچار ہوسکتی ہے۔ بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں تیزی آسکتی ہے۔

حکومتی بجٹ کی تقسیم کے حوالے سے نائجیریا میں ریاستی گورنر کی نشست خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی تناظر میں جنوبی حصے کی جماعت ایکشن کانگریس آف نائیجیریا، جو ملک کے اقتصادی مرکز لاگوس میں بر سر اقتدار ہے اپنا حلقہء اختیار مزید وسیع کرنے کی جدوجہد میں ہے۔ اسی طرح صدارتی انتخاب ہارنے والے سابق فوجی سربراہ محمدو بحاری کی جماعت دی کانگریس فار پروگریسو چینج کو شمالی حصے میں کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ گُڈ لک جوناتھن نے صدارتی انتخابات میں 57 فیصد جبکہ محمدو بحاری نے 31 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

زیر سماعت مقدمات کے سبب ابتدائی طور پر نائجیریا کے 36 صوبوں میں سے محض 26 میں ریاستی گورنر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ بد امنی کے سبب ٹرن آؤٹ کے کم رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM