1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

نائب کپتانی: سلمان بٹ کے لئے ایک امتحان

دنیائے کرکٹ میں ہر ٹیم کا ایک کپتان اور ایک نائب کپتان ہوتا ہے مگر پاکستان ٹیم میں عام طور پر چھ کپتان اور باقی سب تمام نائب کپتان ہوتے ہیں کیونکہ کپتان یا نائب کپتان تبدیل کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔

default

پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ نے بھی گز شتہ 18ماہ میں قومی ٹیم کی قیادت، جہاں چار کرکٹرز کے سپرد کی، وہیں نائب کپتانی کی بھی دستار فضیلت تین سروں پر باندھی جا چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے نائب کپتان سلمان بٹ نے اس منصب کو اپنے لئے چیلنج قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ انہیں صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب وقت اور موقع دیا جائے گا۔

لاہور میں ڈوئچے ویلےکو دئےگئے اپنے انٹرویو میں سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں نائب کپتانی سنبھالنا واقعی ہی مشکل اور چیلنجنگ ٹاسک ہے، تاہم کوشش ہوگی کہ بھرپور کارکردگی دکھا کر بورڈ کے اعتماد پر پورا اترا جائے اور امید ہے کہ اس کے لئے مناسب موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔

Cricketspieler Shahid Afridi

’آفریدی فطرتا ایک دلیر شخص ہیں‘

’’جب آپ ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نائب کپتانی جیسی ذمہ داری کسی کے سپرد کرتے ہیں تو پھر شروع میں کسی معجزے کی توقع کئے بغیراس اعتماد کو ایک سیریز یا ایک ماہ میں ختم نہیں ہونا چاہئے اور فیصلے پر قائم رہنا چاہئے۔‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے سٹائلش اوپنرکو اس سے پہلے 2007ء میں اس وقت کے کپتان شعیب ملک کا نائب کپتان مقرر کیا گیا تھا مگر جلد ہی ان کی جگہ مصباح الحق نے لے لی۔ سرفراز نواز اور اقبال قاسم جیسے سابق کرکٹرز کو اب بھی تحفظات ہیں کہ تین سال پہلے کی طرح نائب کپتانی کا دباؤ بٹ کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس بابت شکوہ کرتے ہوئے 25سالہ سلمان بٹ نے کہا کہ 2007میں ان سے نا انصافی کی گئی تھی۔ ’’مجھے اس وقت صرف دو ٹیسٹ اور اور تین ٹونٹی 20میچز کھلائے گئے، کراچی ٹیسٹ میں میں نے بیماری کی حالت میں اسپتال سے آکر 48 رنز بنائے۔ نائب کپتان ہوتے ہوئے ایک ون ڈے انٹر نیشنل میچ تک کھلانا گوارہ نہ کیا گیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں مجھے صرف پریس کانفرنس کرنے تک محدود کر دیا گیا تھا۔ کرکٹ میں کارکردگی میدان پر دکھائی جاتی ہے، جب آپ کا میدان پر کوئی کردار ہی نہ ہو تو کس طرح اسے فئیر چانس کہا جا سکتا ہے مگر امید ہے کہ اس بار ایسا نہیں ہو گا۔‘‘

Shoaib Akhtar

’شعیب اختر پاکستان کو اکیلے بھی میچ جتوا سکتے ہیں‘

بٹ نائب کپتانی ملنے کوجھٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ نہیں سمجھتے ۔’’میں اپنے بارے میں کپتانی کی بازگشت شروع سے ہی سنتا آیا ہوں۔ میں پاکستان کی انڈر 19 ٹیموں کے علاوہ اکیڈمی ٹیم اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی قیادت کر چکا ہے اس لئے یہ میرے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں البتہ ذاتی کارکردگی کو اہم ترین خیال کرتا ہوں کیونکہ یہ سب چیزیں اس وقت ہی آپ کے ساتھ چلتی ہیں، جب آپ کی اپنی کارکردگی اعلیٰ ہو گی۔ اس سے درست فیصلے کرنے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ اگر میں اپنے لئے اچھا کر رہا ہوں گا تو ٹیم کے لئے بھی اچھا سوچ پاؤں گا۔ میں کسی قسم کا غیر ضروری دباؤ اپنے اوپر قائم نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

سلمان بٹ گز شتہ ماہ ٹونٹی20عالمی چمپئن شپ میں 223 رنز کے ساتھ پاکستان کے ٹاپ سکورر بن کر ان ناقدین کے منہ بند کر چکے ہیں، جو یہ کہتے نہ تھکتے تھے کہ ان کی ٹوئنٹی 20ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی۔ ’’میں دوبار ڈومیسٹک ٹونٹی20کا بہترین بیٹسمین قرار پایا مگر پہلے دونوں ورلڈ کپ میں صرف دو دو میچ ہی کھیل سکا۔ اس بار خدا کے کرم سے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ ہو گیا، جس سے یقین پیدا ہوا کہ اب اگلے میچ کھیلتا رہوں گا۔ اس لئے میری ہمیشہ سے رائے رہی ہے کہ کسی کھلاڑی کو ایک یا دو سیریز میں مکمل موقع ملنا چاہئے۔ صرف ایک دو میچ کھلا کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ عام خیال یہی ہے مستقبل قریب میں ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سلمان بٹ کے سپرد کر دی جائے گی مگر پاکستان میں کم عمر کرکٹر کا کپتان یا نائب کپتان بننا آسانی سے ہضم نہیں کیا جاتا۔ اب جبکہ پابندیاں اور جرمانے ختم کرکے سینئرز کوٹیم میں واپس لایا جا رہا ہے تو ایسے میں سلمان کا ان کھلاڑیوں سے کیسے نباہ ہو گا؟ سلمان نے کہا کہ دوسروں کی عزت کرنے سے ہی عزت ملتی ہے ۔’’ان تمام سینئیرز کی ملک کے لئے بے پناہ خدمات ہیں۔ ان کی واپسی خوش آئند ہے۔ میں ہمیشہ سینئیرز کی عزت کرنے میں یقین رکھتا ہوں تو پھر کیونکر ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوگی۔کارکردگی اصل شے ہے کیونکہ کم میچ کھیلنے والا بھی اگرکارکردگی دکھائے گا، تو لوگ اس کی بھی واہ واہ کریں گے۔ دوسری صورت میں بات نہیں بنتی خواہ آپ نے دس ہزار میچ ہی کیوں نہ کھیلے ہوں۔‘‘

Shoaib Malik

شعیب ملک بھی ٹیم میں واپس آگئے

11 انٹر نیشنل سینچریاں اسکور کرنے والے سلمان بٹ نے شعیب اختر اور شعیب ملک کی ٹیم میں واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں مانے ہوئے ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں اور وہ ٹیم کی قوت میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ سلمان بٹ کے مطابق شعیب اختر اگر 80 فیصد بھی کارکردگی دکھائیں تو وہ تن تنہا پاکستان کو فتح یاب کرواسکتے ہیں تاہم سلمان نے ساتھ ہی خبرادر بھی کیا کہ اس ٹیم سے شروع میں تارے توڑ کر لا نے کی توقع نہ رکھی جائے۔’’نئے کھلاڑیوں کے ساتھ انگلینڈ میں کھیلنا آسان نہ ہوگا۔ ہاں البتہ اگر ہم اسی طرح کی فائٹنگ کرکٹ کھیلیں گے، جس کا مظاہرہ حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں کیا تو لوگ شکست کے باوجود ہمیں سراہیں گے۔ اگر ہم اس میچ کی طرح اپنا کھیل جاری رکھیں تو جلد ہی کامیابیاں بھی ٹیم کا مقدر بننا شروع ہو جائیں گی کیونکہ جب ٹیم اچھا کھیلتی ہے تو فتح زیادہ دیر تک اس سے دور نہیں رہتی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں سلمان بٹ نے کہا کہ شاہد آفریدی فطری طور پر ایک دلیر کرکٹر اور انسان ہیں۔ اس لئے توقع ہے کہ آئندہ آنے والی مشکل اسائمنٹس میں بھی وہ اپنی نیچر سے ہٹ کر کچھ کر نے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اس صورت میں پاکستانی ٹیم حریفوں کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

رپورٹ طارق سعید، لاہور

ادارت عاطف توقیر

DW.COM