1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائب افغان صدر کے خلاف تحقیقات کی جائیں، مغربی ممالک

افغانسان کے مغربی اتحادیوں نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے نائب صدر عبدالرشید دوستم کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ افغان نائب صدر پر اپنے ایک سیاسی حریف احمد ایشچی کو تشدد کا نشانہ بنانے اور اغوا کرنے کا الزام ہے۔

آج مغربی ممالک کی طرف سے ایشچی کی رہائی کے بارے میں افغان حکومت کو واضح پیغامات دیے گئے ہیں۔ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر مغربی حکومتوں کے وفود نے افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔

امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’مبینہ طور پر افغانستان کے نائب صدر کی طرف سے مسٹر  ایشچی  سے ناروا سلوک اور اس کی غیرقانونی حراست سنگین باعثِ تشویش ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ہم افغان حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کریں گے کہ ان الزامات کی چھان بین کی جائے۔‘‘ اسی طرح یورپی یونین کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، کینیڈا اور ناورے نے بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ انسانی حقوق کی کُھلی خلاف ورزی اور زیادتی ہے۔

Afghanistan Portät Abdul Rashid Dostum (Getty Images/Afp/Shah Marai)

دوستم نے افغان حکومت کے ساتھ اتحاد سن 2014ء کو کیا تھا اور اس طرح صدر اشرف غنی ملک میں موجود ازبک نسل کی آبادی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے

ایک ماہ پہلے نیویارک ٹائمز نے یہ خبر شائع کی تھی کہ افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم نے اپنے ایک مخالف کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اغوا کر لیا ہے۔ یہ واقعہ افغانستان کے شمالی صوبہ جوزجان میں  25 نومبر کو بزکشی کے ایک ٹورنامنٹ کے دوران پیش آیا تھا۔ جوزجان افغانستان کے اول نائب صدر عبدالرشید دوستم کا آبائی صوبہ ہے۔

سابق جنگی سردار عبدالرشید دوستم پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام عائد کیے جاتے ہیں اور  وہ صدر اشرف غنی اور حکومتی سربراہ عبداللہ عبداللہ کی اتحادی حکومت سے کافی نالاں ہیں۔

یاد رہے کہ اغوا کی خبر منظرعام پر آتے ہی دوستم کی طرف سے ایک آن لائن پیغام جاری کیا گیا تھا  کہ احمد ایشچی پولیس کی حراست میں تھا۔ دوستم نے افغان حکومت کے ساتھ اتحاد سن 2014ء کو کیا تھا اور اس طرح صدر اشرف غنی ملک میں موجود ازبک نسل کی آبادی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ماضی میں طالبان نے اقتدار میں آکر مختلف جنگی سرداروں کو شکست سے دوچار کر دیا تھا لیکن سن دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان جنگی سرداروں کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا تھا۔