1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے یورپی معاہدے کو ردّ کرنے کا فیصلہ درست ہے، کیمرون

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کے معاہدے میں تبدیلی کی کوشش میں رکاوٹ ڈالنے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔

default

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

یورپی یونین کے معاہدے میں تبدیلی کا منصوبہ فرانس اور جرمنی نے پیش کیا ہے، جس کا مقصد یورو زون کے مالیاتی بحران پر قابو پانا ہے۔

تاہم برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے جمعے کو کہا کہ اس منصوبے میں  رکاوٹ بننے کا ان کا فیصلہ ’سخت لیکن اچھا‘ ہے۔

انہوں نے برسلز میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا: ’’جس جگہ ہمیں تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا ہے، وہاں سے باہر رہنا بہتر ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’میں نے برسلز آنے سے پہلے کہا تھا کہ یورپی یونین کے نئے معاہدے میں برطانیہ کے لیے کافی تحفظ حاصل نہ کر سکا تو میں اس سے متفق نہیں ہوں گا۔ اس میں جو پیش کش کی جا رہی ہے وہ برطانیہ کے مفاد میں نہیں۔ اس لیے میں اس سے متفق نہیں۔‘‘

قبل ازیں فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے برطانیہ کے مطالبوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیمرون کے اس فیصلے سے برطانیہ تنہا رہ سکتا ہے جبکہ یورپی یونین کے ستائیس میں سے تئیس رکن ممالک قریبی انضمام کے معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔

Brüssel Krise Beratung 09.12.2011

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

کیمرون کا کہنا ہے کہ انہوں نے یورپی اداروں کے تمام رکن ممالک کے لیے کام کرتے رہنے پر زور دیا ہے۔ فرانس کے ساتھ سخت تنازعے کی رپورٹوں کے بعد کیمرون نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ مشترکہ کرنسی یورو کے رکن اور غیررکن ملکوں کے درمیان اختلافات ناچاقی کا باعث بنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’’جہاں آج رات کیے گئے فیصلوں کا مرکز ایک نکتہ یہ حقیقیت ہے کہ یورپ میں واحد کرنسی یورو ہے۔ برطانیہ اس کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی بنے گا۔‘‘

برطانیہ کا کہنا ہے کہ اسے مالیاتی ضوابط میں ایسی کسی بھی طرح کی تبدیلیوں کو ویٹو کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے، جو لندن کی مالیاتی مرکز ہونے کی حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یورپین یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے کا کہنا ہے کہ یورو زون کے سترہ ممالک اور یورپین یونین کے دیگر چھ ممالک نے دوسروں کے بغیر ہی اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس