1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نئے ڈیجیٹل دَور کے نئے ہیروز کی ایک مثال

کسی کو شہرت اپنی بے پناہ دولت کے باعث ملتی ہے تو کوئی فلم، TV اور موسیقی کی دنیا میں زبردست کامیابی سمیٹتے ہوئے یہ منزل حاصل کرتا ہے لیکن امریکہ کی کم کارداشیان کو بے حساب شہرت سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے ملی ہے۔

default

کم کارداشیان ایک نیوز کانفرنس میں

اِس اُنتیس سالہ خاتون کو ملنے والی شہرت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آج کی دُنیا میں ایک سٹار بننے کے لئے ایک کامیاب اداکار یا گلوکار بننا ضروری نہیں بلکہ آپ کو اِس قابل ہونا چاہئے کہ دُنیا آپ کے نام سے واقف ہو، آپ کو زیادہ سے زیادہ جانتی ہو۔ آج کل کی ڈیجیٹل دُنیا میں سوشل نیٹ ورکنگ وَیب سائٹس نے کئی ایسے لوگوں کو، جو کل تک گمنام تھے، اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے اور کم کارداشیان ایسی ہی ایک مثال ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ کارداشیان ایک برانڈ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور اِس میں بنیادی کردار فیس بُک اور ٹویٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ساتھ ساتھ خود اُس سے موسوم وَیب سائٹ کم کارداشیان ڈاٹ سیلے بَز نے ادا کیا ہے۔ جریدے ’پیپل‘ کے سینیئر ایڈیٹر ڈیوڈ کپلان کے خیال میں مشہور اداکار اور گلوکار اپنی اپنی وَیب سائٹس پر اپنے پیغامات میں زیادہ تر اپنے آئندہ منصوبوں کے بارے میں غیر دلچسپ پیغامات تحریر کرتے رہتے ہیں، اِس کے برعکس کارداشیان کی لکھی ہوئی آن لائن تحریریں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ شائقین اُن کے ہمہ وقت منظر رہتے ہیں۔ وہ اچانک ٹویٹر پر کوئی چٹکلا چھوڑ دے گی، کوئی اشتعال انگیز تحریر لکھ دے گی اور کچھ ہی دیر میں ہر طرف اُس بات کا چرچا ہونے لگے گا۔

ایک وقت تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے یہ پوچھتے تھے کہ یہ کم کارداشیان کون ہے۔ اب یہ حال ہے کہ کم کارداشیان کی ذاتی وَیب سائٹ کو ناظرین ماہانہ چوبیس ملین مرتبہ کلک کرتے ہیں اور اِس اعتبار سے یہ وَیب سائٹ آل ٹیلنٹ وَیب سائٹس میں آج کل پہلے نمبر پر ہے۔ کارداشیان کی وَیب سائیٹ کے منتظم ادارے بَز میڈیا نے بتایا ہے کہ صرف اِس وَیب سائیٹ کے اپنے یُوزرز یا صارفین کی ماہانہ تعداد 1.5ملین ہے۔

آج کل کارداشیان کا اپنا ایک ریئیلٹی ٹی وی شو ہے، ’کیپنگ اَپ وِد دی کارداشیانز‘، جس میں وہ اپنی دو بہنوں اور اپنی مینیجر ماں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ اُس کا باپ لاس اینجلس کا ایک وکیل ہے۔

کچھ صحافتی حلقے اُسے یہ کہہ کر ہدفِ تنقید بناتے ہیں کہ اُسے یہ ساری شہرت اپنی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ڈیجیٹل میڈیا کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے کم کارداشیان نے کہا کہ اِس طرح کی تنقید کو وہ منفی طور پر نہیں لیتی کیونکہ اُسے بہرحال یہ فخر ہے کہ وہ محنت کرتی ہے، وہ ایک بزنس سٹور کی مالکہ ہے اور یہ کہ وہ فیشن کی دُنیا میں سرگرمِ عمل ہے۔

آج کل زیادہ خوبصورت اور سمارٹ نظر آنے کے لئے کم کارداشیان کی اپنی ڈائیٹ مصنوعات ہیں اور اُس کے نام سے ایک خوشبو بھی مارکیٹ میں ہے۔ اُس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں نیویارک کے مادام تُساؤ میوزیم میں اُس کے ایک مومی مجسمے کی نقاب کُشائی کی گئی۔ اِس موقع پر کم نے وہی مختصر گلابی لباس پہنا ہوا تھا، جو اُس کے مومی مجسمے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : افسر اعوان

DW.COM