1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے پائیدار معاہدے کے لیے فرانس اور جرمنی کا منصوبہ، رپورٹ

جرمنی اور فرانس یورو زون کے بحران کے حل کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ بات جرمن اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

default

جرمن چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر سارکوزی

یہ رپورٹ ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ کی اتوار کی اشاعت میں شامل ہے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اخبار نے رپورٹ کے مندرجات ہفتے کی شب ہی جاری کر دیے تھے۔ اس کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی یورو زون کے بحران کے حل کے لیے جو اقدامات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، ان میں ایک ’نیا پائیدار معاہدہ‘ بھی شامل ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضروری ہوا تو جرمنی اور فرانس بجٹ کے لیے سخت ضوابط پر اتفاق کیے لیے مختلف ملکوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔

جرمن حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ میرکل اور سارکوزی بحران کے حل کے لیے منصوبے کا اعلان آئندہ ہفتے کر سکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق چونکہ یورپی یونین کے موجودہ معاہدوں کو تبدیل کرنے میں کافی وقت لگے گا، اس لیے یورو زون کے رکن ملکوں کو ایسی تاخیر سے بچنے کے لیے اس زون کے اندر ہی ’نئے پائیدار معاہدے‘ پر اتفاق کر لینا چاہیے، جو ممکنہ طور پر آئندہ برس کے آغاز پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ شینگن معاہدے کی طرز پر ہو سکتا ہے، جو رکن ملکوں کے درمیان سرحدوں سے آزاد سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

پائیدار معاہدے کا حصہ بننے والے ملکوں کے درمیان خسارے کے ضوابط اور قومی بجٹ کو کنٹرول کرنے کے حقوق طے ہوں گے۔

Schengen Symbolbild Schengenabkommen EU Europa Grenzen

شینگن کی طرز پر مالیاتی معاہدے کی بات بھی ہو رہے

یورپین سینٹرل بینک (ای سی بی) کو بھی یورو زون میں بحران سے نمٹنے والی قوت کے طور پر ابھرنا چاہیے۔ ای سی بی خودمختار ہے اور حکومت اس کو ہدایات نہیں دے سکتی۔ ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ لکھتا ہے کہ اس کے باوجود ای سی بی سے وابستہ توقعات واضح ہیں۔

اخبار مزید لکھتا ہے: ’’ان اقدامات کی بنیاد پر مارکیٹوں میں سخت مداخلت کے لیے ای سی بی کے اندر اکثریت ہونی چاہیے۔‘‘

مرکزی بینک کے ایک عہدے دار کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ سیاستدان جامع اقدام پر متفق ہو سکیں تو ای سی بی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس