1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے مکانات کی تعمیر کا اسرائیلی فیصلہ، جرمنی کی جانب سے تنقید

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مشرقی یروشلم میں نئے مکانات کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ میرکل کے بقول فریقن کے مابین مذاکراتی عمل شروع ہونا چاہیے۔

default

اسرائیل کی جانب سے منظوری دینا ناقابل فہم ہے، میرکل

 جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی منصوبےکوجارحیت قرار دیا۔ میرکل کے بقول اسرائیل کی جانب سے 11سو نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دینا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح یروشلم حکومت کے مشرق وسطیٰ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ارادوں کے بارے میں شکوک شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ جرمن چانسلر نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے وہ فلسطینی انتظامیہ سے دو ریاستی منصوبے پر بات چیت شروع کریں۔

Bundeskanzlerin Merkel mit Benjamin Netanjahu

فریقین کے مابین مذاکرات شروع ہونے چاہیں، جرمن چانسلر میرکل

۔فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات ایک برس قبل اس وقت معطل ہوگئے جب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے یہودی بستیوں کی تعمیر پر 10ماہ کے لیے لگائی گئی پابندی ختم کر دی تھی۔ محمود عباس کا مطالبہ ہے کہ مذاکراتی عمل صرف اسی وقت شروع ہو سکتا ہے، جب اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو روکے۔ اس سے قبل برطانیہ اور یورپی یونین بھی اسرائیل سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر چکے ہیں

اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس نے گزشتہ ہفتے اسرائیل اور فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر تعطّل کے شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں۔ اس سے قبل فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس امریکہ اور اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی درخواست دے چکے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم پر قبضے کو بین الاقوامی سطح پرمخالفت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس اسرائیلی اقدام کو ابھی تک بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسیلم نہیں کیا گیا۔ اسرائیل مشرقی یروشلم پر اپنی گرفت مظبوط کرنے کا کہتے ہوئے دس تعمیراتی منصوبے مکمل کر چکا ہے۔ ان میں سے سب سے بڑی گیلوکی یہودی بستی ہے، جس کی آبادی تقریباً 50 ہزار ہے۔

 

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM