1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے مکانات کی تعمیر، بین الاقوامی برادری کا اسرائیل سے احتجاج

اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں مزید گیارہ سو مکانات کی تعمیر کی منظوری پر امریکہ، برطانیہ اور یورپی برادری کی طرف سے نکتہ چینی کی گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت داخلہ کی جانب سے منگل کو اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔

default

برطانیہ اور یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے، جبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ نئی بستیوں کی تعمیر کا یہ فیصلہ مذاکرات کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم چار  کے گروپ ’کوارٹیٹ‘ کی کوششوں کو دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ ان میں اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور روس شامل ہیں۔ کوارٹیٹ نے اسرائیل اور فلسطینیوں پر زور دے رکھا ہے کہ وہ ایک ماہ میں مذاکرات بحال اور ایک سال میں مسئلہ حل کریں۔ کوارٹیٹ کی طرف سے فریقین سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچے۔ فلسطینی قیادت نے نئے اسرائیلی اعلان کی مذمت کی ہے۔

مشرقی یروشلم فلسطین کے ان علاقوں میں شامل ہے جن پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا

مشرقی یروشلم فلسطین کے ان علاقوں میں شامل ہے جن پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے مطابق یہ منصوبے سے دو ریاستی حل کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے۔ مشرقی یروشلم فلسطین کے ان علاقوں میں شامل ہے جن پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔

فلسطین کے سینئر مذاکرات کار صائب عریکات کے بقول نئی بستیوں کی تعمیر کا یہ منصوبہ دراصل اسرائیل کی طرف سے  مذاکرات کی بحالی کے لیے کوارٹیٹ کے بیان کا 11 سو مرتبہ انکار ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ کے مطابق نئی بستیوں کی تعمیر جاری رکھ کے اسرائیل بین الاقوامی برادری کی خواہش کو چیلنج کر رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جمعہ 23 ستمبر کو آزاد ریاست تسلیم کرانے کے لیے درخواست اقوام متحدہ میں جمع کرائی تھی۔ امریکہ اور مغربی ممالک کا مطالبہ تھا کہ آزاد ریاست کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کی بجائے فلسطینیوں کو اسرائیل سے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنا چاہیے۔

اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں مزید گیارہ سو مکانات کی تعمیر کی منظوری پر امریکہ، برطانیہ اور یورپی برادری کی طرف سے نکتہ چینی کی گئی ہے

اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں مزید گیارہ سو مکانات کی تعمیر کی منظوری پر امریکہ، برطانیہ اور یورپی برادری کی طرف سے نکتہ چینی کی گئی ہے

فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات ایک برس قبل اس وقت معطل ہوگئے جب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے یہودی بستیوں کی تعمیر پر 10 ماہ کے لیے لگائی گئی عارضی پابندی میں توسیع سے انکار کر دیا تھا۔ ان مذاکرات میں تعطل کی ذمہ داری دونوں فریق ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔ محمود عباس مذاکرات کی بحالی کے لیے یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو روکے۔

 دوسری طرف سلامتی کونسل میں فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی درخواست پر باقاعدہ بات چیت کا آغاز آج بدھ 28 ستمبر سے ہو رہا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس