1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

نئے قوانین فارمولا ون کو دلچسپ بنانے میں مددگار ہوں گے: جرمن ڈرائیور

فارمولا ون کی جرمن ٹیم بی ایم ڈبلیو زاؤبر کے ڈرائیور نِک ہائڈ فیلڈ کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے موٹر ریسنگ میں مثبت تبدیلیاں متوقع ہیں اور ان سے اوور ٹیکنگ کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

default

فارمولا ون میں استعمال ہونے والے موجودہ ٹائروں کو سَلِک ٹارئوں سے تبدیل کر دیا گیا ہے

31 سالہ جرمن ڈرائیور کے مطابق انرجی ریکوری سسٹم اور سَلِک ٹائروں کی موجودگی ڈرائیورں کی مہارت کا امتحان ہو گی اور ذرا سی غلطی کا مطلب ہار کی صورت میں نکلے گا۔ نِک ہائڈ فیلڈ کا کہنا ہے : ’’ جب آپ کسی گاڑی کے بالکل پیچھے ہوں اور ایسے میں پاور بوسٹ بٹن دبادیں تو یقیناﹰ یہ انتہائی دلچسپ منظر ہو گاجب آپ کی کار تقریبا اڑتی ہوئی دوسری کار سے آگے نکل جائے گی۔‘‘

So wird ein F-1-Auto entwickelt und gebaut Toyota F1 Windtunnel inside the test section

فارمولا ون موٹر ریسنگ میں انرجی ریکوری سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے

دریں اثناء فارمولا ون کی ایک اور ٹیم میکلارن کے ڈرائیور ہائیکی کوول آئنن نے پیش گوئی کی ہے کہ 2009 میں شائقین کو کچھ اچھوتے مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئے قواعد سے ریسنگ میں پیدا ہونی والی تبدیلیوں کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ ہائیکی کوول آئنن کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا اصل اثر میلبورن کی گراں پری ہی میں دیکھا جا سکے گا۔

ہائیکی کوول آئنن کے مطابق ان تمام تبدیلیوں کے باوجود کوئی بھی ٹیم بڑے مارجن سے کامیاب نہیں ہو گی بلکہ مقابلے اور زیادہ سخت اور قریب ترین ہوں گے۔ انہوں نے نئے قوانین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ’’ موٹر ریسنگ میں ان تبدیلیوں سے راتوں رات کوئی انقلاب تو برپا نہیں ہو جائے گا مگر مقابلوں کی دلچسپی میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہو گا۔‘‘

Grand Prix Training in Monaco

فارمولا ون میں شریک ٹیمیں ان تبدلیوں کو مثبت اور دلچسپ قرار دے رہی ہیں

کوول آئنن نے کہا :’’ مجھے موجودہ ٹائر کبھی بھی پسند نہیں تھے۔ ریسنگ میں سَلِک ٹائروں کی واپسی سے مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ فارمولا ون میں رفتار کم کرنے والے ٹائروں کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔‘‘

کوول آئنن نے اپنی ٹیم کی تیاریوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’ہم میلبورن میں اس سیزن کی پہلی گراں پری کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اس ریس کا میں ہر ممکن حد تک لطف لینا چاہتا ہوں۔‘‘

اس بار فارمولا ون کے پوائنٹس سسٹم میں بھی تبدیلی متوقع ہے جس کا مقصد جیتنے والے ڈرائیورں کو زیادہ فائدہ پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ آٹوموبائل کی بین الاقوامی فیڈریشن FIA کے پاس موٹر ریسنگ میں اولمپک طرز کا میڈل سسٹم متعارف کروانے کی تجویز بھی موجود ہے۔