1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

نئے صدر کے بعد کیا فیفا بحران پر قابو پا لے گی؟

فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا گزشتہ کئی ماہ سے مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار چلی آ رہی ہے۔ اب جمعے کے روز نئے صدرکو منتخب کرتے ہوئے یہ تنظیم کم از کم اپنے ایک مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

فیفا کی صدارت کی ذمہ داری اب پینتالیس سالہ جیانی انفینٹینو کے سر ہو گی۔ وہ یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن ’یوئیفا‘ کے جنرل سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بقول، ’’ فیفا کو مشکل وقت اور بحرانی حالات سے گزرنا پڑا ہے اور اب اس تنظیم کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے‘‘۔ فیفا کے نئے صدر کے بقول وہ اس تنظیم کو یکجا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان انتخابات میں فیفا کے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے تعلق رکھنے ارکان کے موقف میں واضح فرق دکھائی دیا۔ اس تناظر میں انفینٹینو نے کہا، ’’ یہ انتخابات تھے کوئی جنگ نہیں اور شکست و فتح کے بعد بھی زندگی آگے بڑھتی ہے۔‘‘

Schweiz Zürich FIFA Außerordentlicher Kongress Al-Khalifa

ایشیئن فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان 88 ارکان کی حمایت حاصل کر سکے

انفینٹینو اطالوی نژاد سوئس شہری ہیں اور انہوں نے صدارت کے انتخابات میں شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کو دوسرے مرحلے میں شکست دی۔ انفینٹیو کو 207 میں سے 115 ووٹ ملے جبکہ ایشیئن فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان 88 ارکان کی حمایت حاصل کر سکے۔ شیخ سلمان کا تعلق بحرین سے ہے۔ ان انتخابات کے پہلے مرحلے میں ان دونوں کے مابین صرف تین ووٹ کا فرق تھا۔

فیفا کا صدر بننے کی دوڑ میں کل پانچ امیدوار نے کاغذات جمع کرائے تھے، ان میں اردن کے شہزادہ علی بن الحسین، فرانس کے ژیروم شیمپن اور جنوبی افریقہ کے ٹائیکون ٹوکیو شامل تھے۔ تاہم ٹائیکون نے رائے شماری سے قبل ہی دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

اس موقع پر سابق صدر سیپ بلاٹر نے بھی اپنے جانشین کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔’’ اپنے تجربے، اپنی صلاحیت، پالیسی سازی اور سیاسی حکمت جیسی خوبیوں کے ساتھ انفینٹیو میری ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ سیپ بلاٹر کے اٹھارہ سال دور کا اختتام استعفے پر ہوا تھا۔ سیپ بلاٹر اور یوئیفا کے سابق سربراہ مشیل پلاٹینی کو ابھی کچھ عرصہ قبل ہی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ سے فیفا کی اخلاقیاتی کمیٹی کی جانب سے چھ سال کے لیے معّطل کیا گیا ہے۔

2018 ء کے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی روس کو دیے جانے اور 2022ء کے ورلڈ کپ کے لیے قطر کو منتخب کرنے کے معاملے میں فیفا کے کئی اعلی عہدیداروں کے خلاف چھان بین جاری ہے۔ امریکی دفتر استغاثہ نے فیفا کے 39 عہدیداروں پر فرد جرم عائد کی ہوئی ہے۔ ان پر 200 ملین ڈالر سے زائد کی خرد برد کا الزام ہے۔