1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے سعودی ولی عہد کی تقرری: کيا اس ميں بھی ٹرمپ کا ہاتھ ہے؟

سياسی مبصرين کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ کے مابین بڑھتے ہوئے دو طرفہ روابط کافی حد تک سعودی عرب ميں نئے ولی عہد کی تقرری کا سبب بنے۔

سعودی شاہ سلمان نے اسی ہفتے بدھ کے دن غير متوقع طور پر ستاون سالہ محمد بن نائف کو ولی عہد کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ اپنے بیٹے اکتيس سالہ محمد بن سلمان کو نيا ولی عہد مقرر کر ديا۔ نائف سعودی ولی عہد ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی وزير داخلہ کی ذمہ دارياں بھی نبھا رہے تھے۔ ان کی انسداد دہشت گردی سے متعلق خدمات کے سبب سابق امريکی انتظاميہ ميں وہ کافی مقبول تھے ليکن پچھلے دو برسوں کے دوران محمد بن سلمان کی سياسی قوت اور اختيارات ميں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔

فرانسيسی دارالحکومت پيرس کی ’سائنسز پو‘ يونيورسٹی ميں ايسوسی ايٹ پروفيسر اسٹيفن لاکُوا کا کہنا ہے کہ ماضی میں محمد بن نائف کی برطرفی رکوانے ميں سابق امريکی صدر باراک اوباما کی انتظاميہ کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے يہ سب بدل گيا۔‘‘ لاکُوا  کے بقول ڈونلڈ ٹرمپ نے امريکی صدر بننے کے فوری بعد ہی واضح کر ديا تھا کہ مشرق وسطیٰ ميں محمد بن سلمان، ابو ظہبی کے ولی عہد شيخ محمد بن زيد النہيان اور مصری صدر عبدالفتح السيسی ان کے ساتھی ہوں گے۔ نئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مارچ ميں امريکا کا دورہ کيا تھا اور پھر جب پچھلے ماہ ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کيا، تو انہوں نے امريکی صدر کا شاندار انداز سے استقبال کيا۔

در اصل رياض حکومت کو بھی روايتی حريف ايران کے خلاف ٹرمپ کی مقابلتاً زيادہ جارحانہ حمکت عملی پسند ہے۔ سياسی مبصرين کے مطابق در حقیقت ٹرمپ کا رويہ ہی تھا جس کی وجہ سے سعودی بادشاہ محمد بن سلمان اور ابو ظہبی کے ولی عہد نے موقع پاتے ہی خليجی رياست قطر سے بھی روابط منقطع کر ديے۔ انہوں نے قطر پر دہشت گرد گروہوں کی حمايت کا الزام لگايا اور بعد ازاں ٹرمپ نے بھی اس کی تائيد کی۔

ايسوسی ايٹ پروفيسر اسٹيفن لاکُوا  کے مطابق محمد بن سلمان اس بات سے واقف تھے کہ امريکا کو محمد بن نائف کی برطرفی پر کوئی اعتراض نہيں ہو گا۔ بدھ کو ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے بذريعہ ٹيلی فون رابطہ کرتے ہوئے نئے سعودی ولی عہد کو مبارک باد بھی پيش کی۔

واشنگٹن ميں قائم ’کارنيگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنيشنل پيس‘ کے مشرق وسطیٰ کے ليے پروگرام سے وابستہ فريڈرک ويہری کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی قيادت نئے ولی عہد کی تقرری کے ليے امريکا کی تائيد کی بالکل منتظر نہيں تھی تاہم باہمی تعلقات ميں بہتری اور سعودی عرب ميں چند داخلی وجوہات اس پيش رفت کا سبب بنے۔