نئے دور افتادہ ترین نظام شمسی کی دریافت | سائنس اور ماحول | DW | 28.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نئے دور افتادہ ترین نظام شمسی کی دریافت

ماہرین فلکیات نے ایک ایسے نئے اور دور افتادہ ترین نظام شمسی کو دریافت کیا ہے، جس کا ایک بہت بڑا سیارہ اس نظام کے مرکز سے اتنا دور ہے کہ اسے اس ستارے کے گرد اپنے مدار میں ایک چکر پورا کرنے میں قریب ایک ملین سال لگتے ہیں۔

Bild der Milchstraße

دودھیا کہکشاں یا ’مِلکی وے‘ کی ایک تصویر اور اس میں ہمارے نظام شمسی کے سورج کی حیثیت

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات 28 جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ایک نئی فلکیاتی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس نئے نظام شمسی کے جس سیارے کی بات کی جا رہی ہے، وہ کافی عرصے سے ماہرین کے علم میں تھا۔ لیکن اب سے پہلے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ خلا میں آزادانہ تیرتا ہوا یہ انتہائی عظیم الجثہ سیارہ ایک ایسا اکیلا فلکیاتی جسم تھا، جو کسی نظام شمسی کا حصہ نہیں تھا۔

لیکن ایک نئی ریسرچ کے نتیجے میں ماہرین نے اس سیارے کو ایک ایسے ستارے کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جو اس سیارے سے قریب ایک ٹریلین یا دس کھرب کلومیٹر دور ہے۔ اس طرح یہ سیارہ اور اس کا ستارہ ایک ایسے نئے نظام شمسی کا حصہ ہیں، جو آج تک دریافت کیا جانے والا سب سے دور دراز سولر سسٹم ہے۔

اس سے بھی دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایک نئے نظام شمسی کے طور پر یہ سیارہ اور اس کا ستارہ دونوں ہی خلا میں اکٹھے حرکت میں بھی ہیں۔ ان دونوں کا زمین کے نظام شمسی کے مرکز یا ہمارے سورج سے فاصلہ تقریباﹰ 104 نوری سال بنتا ہے۔

ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات اور اس نئی تحقیق کے مرکزی مصنف نیال ڈیکن کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نئے نظام شمسی کے حصوں کے طور پر یہ ستارہ اور اس کا سیارہ دونوں ہی گزشتہ آٹھ برسوں سے ماہرین کے علم میں تو تھے لیکن اب سے پہلے ان دونوں خلائی اجسام کے آپس میں تعلق کا کسی کو علم نہیں تھا۔

برطانیہ کی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی کی Monthly Notices نامی پبلیکیشن کے تازہ ترین شمارے میں شامل کردہ معلومات کے مطابق اس نئے نظام شمسی کے واحد سیارے اور ستارے کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ ہماری زمین اور ہمارے سورج کے درمیان فاصلے کا سات ہزار گنا بنتا ہے۔

Wissenschaft Astronomie Jupiterähnlicher Exoplanet in der Milchstraße entdeckt

کسی بھی نظام شمسی میں ایک مرکزی ستارے یا سورج کے علاوہ ایک یا ایک سے زائد سیاروں کا ہونا لازمی ہوتا ہے

ماہرین نے نئے نظام شمسی کو تو کوئی نیا نام نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ستارے کو، لیکن اس سولر سسٹم کے واحد سیارے کا نام 2MASS J2126 ہے، جو اسے قریب آٹھ سال پہلے دیا گیا تھا۔ اس سیارے کو اپنے سورج کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں قریب نو لاکھ زمینی سال لگتے ہیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نیال ڈیکن اور ان کے ساتھی سائنسدان سائمن مرفی کے مطابق 2MASS J2126 نامی سیارہ ہمارے نظام شمسی کے سیارے مشتری یا Jupiter سے 12 سے لے کر 15 گنا تک بڑا ہے۔ اسے اپنے سورج کے گرد ایک چکر لگانے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ سیارہ اپنے وجود میں آنے سے لے کر اب تک ایسے 50 سے بھی کم چکر ہی لگا سکا ہے۔

DW.COM