1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے برطانوی وزیر خارجہ کا دورہٴ افغانستان

برطانیہ میں چھ مئی کے عام انتخابات کے بعد وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کے وزیر خارجہ نے افغانستان کا دورہ کر کے کابل حکومت کو نئی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا۔

default

برطانوی وزیر خارجہ ’ولیم ہیگ‘  نے نو منتخب برطانوی حکومت کی طرف سے کابل حکومت کو مستحکم دوستی تعمیر نو کے پروجیکٹس کو دوبارہ سے مُرتب کرنے اور باہمی اشتراک عمل کا یقین دلایا ہے۔ یہ بیان انہوں نے ہفتے کے روز ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ افغانستان کے دورے پر کابل میں دیا۔

 برطانوی وزیر خارجہ کے ہمراہ  برطانیہ کے عالمی ترقیاتی امور کے

Britische Minister in Afghanistan

برطانوی وفد افغان وزیر خارجہ کے ہمراہ

سیکریٹری ’اینڈریومچل‘ اور برطانیہ کے وزیر دفاع ’لیئم فوکس‘ بھی افغانستان پہنچے۔ تاہم ہفتے کے روز افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں برطانوی وزیر دفاع ’لیئم فوکس‘ نے افغانستان سے برطانوی فوجیوں کے انخلاء کی کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔ اس موقع پر ولیم ہیگ نے کہا کہ افغانستان اُس وقت تک اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود نہیں اُٹھا سکتا جب تک اس ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہ ہو جائے۔

 برطانیہ کی نو منتخب حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے افغانستان کے اس دورے کے وقت حیران کن طور پر برطانوی فُٹ بال اسٹار ’ڈیوڈ بیکہم نے بھی افغانستان میں برطانوی فوج اڈے کا دورہ کیا اور وہاں متعینہ برطانوی فوجیوں سے ملاقات کی۔

 برطانوی سیاسی وفد نے افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کے کمانڈر

Großbritannien Außenminister William Hague

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ

امریکی جنرل مک کرسٹل اورمغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے دیگر ملٹری لیڈروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔  برطانیہ اب تک اپنے 9 ہزار فوجی افغانستان میں تعینات کر  چکا ہے اور برطانوی وزیر دفاع

 ’فوکس‘ کے مطابق یہ لندن حکومت کی آخری حد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر برطانوی فوجی سب سے زیادہ شورش زدہ اور طالبان کا گڑھ مانے جانے والے علاقے جنوبی افغانستان کے ایک بڑے صوبے قندھار میں تعینات ہیں۔

سن 2001 ء سے ابتک افغانستان میں جاری جنگ میں 286 برطانوی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

برطانیہ کی نئی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے چند روز بعد ہی برطانوی سیاستدانوں کے اس اعلیٰ سطحی وفد کا افغانستان کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق یہ دورہ نئی برطانوی حکومت کی طرف سے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کا ایک جائزہ لینے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ ادھربرطانیہ کے رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ  گزشتہ نومبر کے بعد سے برطانوی عوام کے اندر افغانستان میں برطانوی فوج کی تعیناتی کے بارے میں شکوک و شبہات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔   

رپورٹ:  کشور مصطفیٰ

ادارت:  عابد حسین

DW.COM