1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئے آرمی چیف پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیر دفاع

پاکستان کے وزیر دفاع نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف پاکستانی فوج کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ دوسری جانب بھارتی فوج کے سابق سربراہ کی جانب سے بھی پاکستانی فوج کے نئے سربراہ کی تعریف کی گئی ہے۔

پاکستان کے موجودہ آرمی چیف راحیل شریف کی تین سالہ مدت ملازمت منگل کے روز ختم ہو جائے گی اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ لے رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق جنرل راحیل شریف عوام میں انتہائی مقبول تھے لیکن ان کی مدت ملازمت کے دوران سویلین حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات اکثر اوقات کشیدہ رہے ہیں۔

گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے بیرونی دنیا کے ساتھ بھی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ امریکا اور افغانستان شکایت کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی سے گریزاں ہے جبکہ کشمیر کے معاملے میں بھی پاکستان نے گزشتہ تین برسوں کے دوران سخت موقف اپنایا ہے۔

عوامی سطح پر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ بنیادی امور کے حوالے سے پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے نظریات کیسے ہیں؟ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات یا مقامی سطح پر پائی جانے والی عسکریت پسندی جیسے معاملات سے کیسے نمٹیں گے؟ تاہم اب پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوجی پالسیی میں فوری طور پر کوئی بھی بڑی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا، ’’فوجی پالیسی اسی طرح جاری رہے گی، اس میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں لائی جا رہی۔‘‘

کیا جنرل قمر جاوید باجوہ راحیل شریف سے مختلف ثابت ہوں گے؟

ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’جنرل راحیل کی وراثت ان کی قائم کردہ مثال کی روشنی میں جاری رہے گی۔‘‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں مجموعی طور پر پاکستان میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن وقفے وقفے سے بڑے دہشت گردانہ حملے بھی ہوتے رہے ہیں۔ اتوار کے روز امریکا نے جنرل باجوہ کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔

پاکستان میں قائم امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان میں بھی اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین اس وقت کشیدگی عروج پر ہے اور وزیراعظم نواز شریف اس وقت کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے سابق فوجی سربراہ بکرم سنگھ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف کی ہے۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل ہو کر جنرل باجوہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کا انڈیا ٹوڈے ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ بین الاقوامی ماحول میں ان کی کارکردگی پیشہ وارانہ اور شاندار تھی۔‘‘

تاہم جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کے حوالے سے پالیسی تبدیل کریں گے تو بکرم سنگھ کا کہنا تھا، ’’مجھے کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔‘‘

DW.COM