1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی ہزاری کے اہداف اور افریقی ریاستیں

روانڈا میں نسل کشی کا باعث بننے والا تنازعہ چھ اور سات اپریل 1994کی درمیانی رات کو شروع ہوا تھا۔ پھر صرف 100 دنوں کے اندر اندر Hutu اور Tutsi قبائل سے تعلق رکھنے والے تقریباً آٹھ لاکھ انسان قتل کردئے گئے۔ اس نسل کشی کو بارہ سال ہو چکے ہیں لیکن عالمی آبادی ، خاص کر صنعتی ملکوں کے شہریوں کے ذہنوں میں آج بھی روانڈا کا نام آتے ہی قتل عام اور خونریز دہشت گردی کا خیال آتا ہے۔

کیاغربت کے خاتمے سے پہلے بھوک کا خاتمہ ضروری نہیں ہے ؟

کیاغربت کے خاتمے سے پہلے بھوک کا خاتمہ ضروری نہیں ہے ؟

جرمن ترقیاتی سوسائٹی InWent سے تعلق رکھنے والے Luiz Ramalho کہتے ہیں: " دو افریقی ملک ایسے ہیں جو آج بھی اپنے ماضی کے واقعات کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان میں سے ایک روانڈا ہے اور دوسرا یوگنڈا۔ روانڈا میں اصلاحات متعارف کرائی جاچکی ہیں، وہاں سیاسی استحکام دیکھنے میں آیا ہے اور بدعنوانی بھی کئی دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کے باوجود وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی جاتی کیونکہ اس ملک کو غلط طور پرانتشار اور نسل کشی کا مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ "

یہ مثبت تبدیلیاں صرف روانڈا ہی میں نہیں بلکہ گذشتہ برسوں کے دوران بہت سے افریقی ملکوں میں دیکھنے میں آئی ہیں۔ لیکن عالمی رائے عامہ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ کئی افریقی حکومتوں نے اپنے ہاں ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جن کا نتیجہ سرمایہ کاری میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی OECD کے رکن ملکوں اور مشرقی یورپی ریاستوں میں اصلاحات کی ضرورت افریقہ سے کہیں زیادہ تھی۔

معیشی ترقی کی رفتار

افریقہ کے 17 ملکوں میں گذشتہ ایک عشرے کے دوران معیشت میں کم ازکم چار فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی۔ ان میں سے دس ملکوں میں تو ترقی کی یہ شرح سات یا آٹھ فیصد تک رہی۔ لیکن افریقہ میں نئی ہزاری کے اہداف کے حصول کے لئے یہ ترقی کافی ثابت نہیں ہو گی۔ اقوام متحدہ کی خواہش ہے کہ 2015 تک پوری دنیا میں غربت کے شکار انسانوں کی تعداد میں 50 فیصد کی کمی ہو جائے۔

لیکن یہ اہداف غیر حکومتی یا ترقیاتی امدادی تنظیمیںصرف اپنے طور پر حاصل نہیں کر سکتیں۔ Luiz Ramalho کہتے ہیں: " نئی ہزاری کے اہداف کے حصول کے لئے نجی معیشت کا کردار بہت ضروری ہے۔ افریقی یا بین الاقوامی اداروں کے فعال تعاون کے بغیر یہ مقاصد یقینی طور پر حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ مطلب یہ کہ نجی معیشت بہت سے مسائل کے حل کا حصہ ہے نہ کہ وہ بذات خود کوئی مسئلہ ہے۔"

پرکشش افریقی منڈیاں

نجی معیشی اداروں کو افریقہ میں اقتصادی اورسماجی طور پر فعال کیوں ہونا چاہیے ؟ ا س سوال کا جواب وہ افریقی منڈیاں بھی ہیں جو بہت پرکشش ہیں۔ مثلاً بہت سی ادویات ، بہت سے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کے مقابلے میں ، سب سے کم ترقی یافتہ ریاستوں میں کہیں زیادہ مہنگی ہیں۔ ایسی منڈیوں سے ان اداروں کو فائدہ پہنچے گا اوریہ ادارے سماجی طور پر وہ اہم کردار بھی ادا کرسکیں گے جس کی مدد سے طویل المدتی بنیادوں پر وہاں ادویات کی قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایک اہلکار Arun Kashuyp نے اسی نقطہ نظر سے بہت سے صنعتی اور معیشی اداروں سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا وہ ایسے انسانوں کے لئے مصنوعات اور پیشہ وارانہ خدمات مہیا کرنے پر آمادہ ہیں جو اپنے اپنے معاشروں کے مرکزی دھاروں سے دور ہیں۔ Arun Kashuyp کہتے ہیں: " مجموعی طور پر ان اداروں کا رد عمل بہت مثبت تھا۔ نجی شعبے کے سبھی اداروں نے کہا کہ وہ یہ کام بڑی خوشی سے کریں گے۔ تاہم ایسے اداروں کے پاس آگہی کی کمی ہے۔ وہ ان منڈیوں سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ طلب کتنی زیادہ ہے اور مقامی منڈیوں کے تقاضوں کو بہتر طور پر کیسے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ان حالات میں عالمی بینک اور دو طرفہ یا کثیر القومی ترقیاتی تنظیموںکا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔"

بدعنوان حکومتیں

عالمی بینک کے انسٹیٹیوٹ کے Djordjija Petkoski کہتے ہیں کہ نجی معیشی اداروں کو ایسی مدد کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ ایسے ملکوں میں منڈیوں کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ " سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بات ترقیاتی منصوبوں کی کی جائے تو بہت سے ملکوں میں ابھی تک ذمے دارانہ طرز حکومت کی کمی نظر آتی ہے۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ دنیا کے 20 سب سے بد عنوان ترین ملکوں میں سے بارہ ریاستوں کا تعلق افریقہ سے ہے۔ یہ حقیقت ترقیاتی کوششوں کے لئے مجموعی طور پر بہت نقصان دہ ہے۔"

افریقی یونین کا خیال ہے کہ بر اعظم افریقہ میں بد عنوانی کی وجہ سے عوامی شعبے کی مجموعی آمدنی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اب افریقی ملکوں میں حکومتیں اور معیشی ادارے بالآخر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انہیں بدعنوانی کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ اسی لئے اب افریقہ میں بہتر تبدیلیوں کی امید کی جا سکتی ہے۔