1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی ڈیٹنگ ایپلیکیشن، جو رومانوی جوڑے بناتی ہے

جوڑے آسمان پر ضرور بنتے ہیں لیکن آج کل رشتہ کرانے والی خالہ کی جگہ، آن لائن ڈیٹنگ ایپلیکیشنز نے لے لی ہے۔ یوں تو اس مقصد کے لیے سینکڑوں ویب سائٹس اور ایپلیکشنز موجود ہیں لیکن Once نامی نئی ایپ ان سے کچھ مختلف ہے۔

عام طور پر ڈیٹنگ ایپلیکشنز صارفین کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات، ان کی عادات، علاقے اور ترجیحات کا کمپیوٹر کے ذریعے جائزہ لے کر انہیں ’ممکنہ ساتھی‘ دکھاتی ہیں۔ Tinder اور OkCupid جیسی اپلیکیشنز اسی طریقے سے آپ کو ممکنہ جیون ساتھی تلاش کر کے دیتے ہیں لیکن Once نامی نئی ڈیٹنگ ایپ ایسا نہیں کرتی بلکہ اس میں حقیقی انسان جوڑا بنانے کے کام پر مامور ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی مائیکے فرلاٹ نے اس ایپلیکیشن کو ذاتی طور پر استعمال کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے آن لائن ڈیٹنگ کے لیے کم از کم درکار معلومات یعنی صنف، جنسی رجحان، عمر، مذہب اور علاقے کا نام فراہم کیا اور بعد ازاں اپنی ایک تصویر بھی اپ لوڈ کر دی۔

اس کے محض آدھے گھنٹے بعد ہی Once نے ان کے لیے ایک ساتھی تجویز کر دیا۔ پیشے کے اعتبار سے فرلاٹ صحافی ہیں لیکن کرسٹوفر نامی ان کا مجوزہ ساتھی ایک آرکیٹیکٹ تھا۔ کرسٹوفر نے بھی اپنی پروفائل میں صرف ضروری معلومات دے رکھی تھیں۔ ایک دوسرے کو جاننے کے لیے ان کے پاس چوبیس گھنٹے کا وقت تھا جس میں پیغامات کے ذریعے اپنے بارے میں مزید معلومات فراہم کی جا سکتی تھیں۔

Once کے لیے کام کرنے والے وینیسا اُلرش نے بتایا، ’’دوسری ایپلیکیشنز کی طرح ہم اپنے صارفین کو لاتعداد پروفائل تجویز نہیں کرتے بلکہ ہم ایک دن کے اندر صرف ایک ساتھی ہی تجویز کرتے ہیں۔‘‘

اس ایپلیکیشن کے صارفین کی تعداد 1.5 ملین تک پہنچ چکی ہے جب کہ 180 فری لانسر صارفین کو جوڑے تجویز کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ فرانس سے تعلق رکھنے والی ایمیلی بھی گزشتہ برس ستمبر کے مہینے سے Once سے وابستہ ہیں جہاں وہ لوگوں کو جیون ساتھی تجویز کرنے کا کام کرتی ہیں۔

ایمیلی کا کہنا ہے کہ ’یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں‘ کا محاورہ کس نے نہیں سن رکھا۔ اس سے پہلے وہ حقیقی زندگی میں بھی کبھی کبھار لوگوں کو ایک دوسرے سے ملا چکی تھیں لیکن ان کا کہنا ہے، ’’اس وقت بہت اچھا لگتا ہے جب آپ کسی شخص کو اپنی سوچ کے مطابق ممکنہ ساتھی تجویز کریں اور پھر آخر کار ان دونوں کی شادی ہو جائے۔‘‘

Logo Dating App Once

اس ایپلیکیشن کے اب تک 1.5 ملین سے زیادہ صارفین ہیں

فرانس میں یہ ایپلیکشن بہت مقبول ہو چکی ہے۔ مائیکے فرلاٹ کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایپلیکشن جنسیت کی بجائے رومانوی جوڑے بنانے میں کافی کارآمد ہے اور پھر فرانس کی سرزمین ویسے بھی محبت کرنے والوں کی سرزمین تصور کی جاتی ہے۔ ایپلیکیشن کی ڈائریکٹر کے بقول ان کے صارفین میں ساٹھ فیصد تعداد عورتوں کی ہے۔

یہ آن لائن ڈیٹنگ ایپ ہزاروں لوگوں کے جوڑے بنا چکی ہے اور کئی ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں مبتلا ہو کر شادی بھی کر چکے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے مائیکے فرلاٹ اور کرسٹوفر کا جوڑا نہیں بن پایا۔

DW.COM