1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی چینی شاہراہ ریشم: سوست کے لیے موقع یا محض غبار؟

چمکتی ہوئی ایک زیر تعمیر شاہراہ جس پر سینکڑوں ٹرک چینی مزدوروں لیے آ رہے ہیں، پاکستان کے شمالی علاقے میں نئی شاہراہ ریشم ہے۔ تاہم سرحدی علاقے سوست میں بسنے والے نہیں جانتے کہ ان کے حصے میں گرد کے سوا بھی کچھ آئے گا۔

سوست ان دنوں چینی معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس علاقے میں چین نئی شاہراہ ریشم تعمیر کر رہا ہے اور اس سے پاکستانی حکام کو کسٹم کی مد میں بے پناہ آمدنی ہو رہی ہے۔ یہ چھیالیس بلین ڈالر کے پاک چین معاہدے اور ’اقتصادی کوریڈور‘ کا پہلا پڑاؤ بھی ہے۔

چینی ڈرائیور خنجر آب پاس سے گزرتے ہوئے اس علاقے میں آتے ہیں۔ یہ سطح سمندر سے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اس کے اطراف قراقرم کی عظیم پہاڑیاں ہیں۔

چینی ٹرک یہاں اپنا مال اتارتے ہیں جسے پاکستانی ڈرائیور دو ہزار کلومیٹر دور بحیرہ عرب پر واقع کراچی تک لے جاتے ہیں۔ تاہم مستقبل میں اسے گوادر پورٹ تک لے جایا جائے گا، جو چین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ گوادر بندرگاہ بھی ’اقتصادی کوریڈور‘ کا حصہ ہے۔ یہ چین کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ سے تجارت کے مواقع فراہم کرے گا۔

کچھ عرصے قبل تک نئی شاہراہ ریشم سوست کے جنوب میں کٹی ہوئی تھی جس کی وجہ لینڈ سلائڈنگ تھی۔ چین نے یہاں ایک سرنگ بنا کر اپنے ٹرکوں کے لیے راستہ بنا لیا۔ اس سرنگ کی تعمیر میں تین برس لگے اور 275 ملین ڈالر کی لاگت آئی۔

اس سرنگ کی تعمیر سے سوست کے باسیوں کو بھی امید ہو چلی تھی کہ ان کا کاروبار بہتر ہو جائے گا، اور سیاح بھی یہاں آنا شروع کردیں گے۔ تاہم یہ امید عارضی ثابت ہوئی۔ چینی ٹرک اس علاقے کو محض راستے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کا نہ اس علاقے کو کوئی معاوضہ ملتا ہے نہ ہی اس سے یہاں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقے کے ایک باسی علی کا خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے حصے میں صرف دھول ہی آ رہی ہے۔‘‘

سوست کے ایک تاجر نور الدین کا کہنا ہے: ’’چین کو صرف اپنے معاشی مفادات سے دل چسپی ہے۔‘‘

فائدہ اسلام آباد کو ضرور ہو رہا ہے، جو کسٹم ڈیوٹی اور ٹول کی مد میں لاکھوں ڈالر کما رہا ہے لیکن ایک پائی بھی سوست کی ترقی پر نہیں لگا رہا۔ اسرار نامی سوست کے ایک باسی نے امیر چینی اور پاکستانیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سوست میں زمینیں سستے داموں خرید رہے ہیں یا کسانوں کے کھیتوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔

چین اور پاکستان کے ’اقتصادی کوریڈور‘ پروجیکٹ کے بارے میں ناقدین کی رائے ہے کہ یہ صرف چین اور پاکستان کی اشرافیہ کو ہی فائدہ پہنچائے گا۔ اس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کی امید رکھنا عبث ہے جو اس ’کوریڈور‘ کا راستہ ہیں اور جہاں کے مزدوروں کو اس کی کامیابی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔