1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نئی قُدرتی دریافتوں کے ناموں پربحث

امریکی سائنسدانوں کی طرف سے قدرتی دریافتوں کو نام دینے کے صدیوں پُرانے طریقہ کارکو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ان ریسرچرز کا کہا کہنا ہے کہ پُرانا طریقہ کار نئی سائنسی معلومات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

***Achtung: Nur zur Berichterstattung über diesen Film verwenden!*** TRÄUME DER LAUSITZ Regionalstart Berlin und Lausitz 06.05.2010 INHALT Der die Region bestimmende Braunkohleabbau wurde vielerorts als unrentabel eingestellt. Unaufhaltsam erobern sich heimische Wölfe und viele Exoten der internationalen Fauna und Flora neue Lebensräume. Die Natur eignet sich rasch an, was der Mensch gerade erst verlassen hat. Aber einige Menschen sind geblieben, harren aus wie Siedler. Sie tauchen im Film als Erzähler ihrer teils skurrilen Geschichten auf. Wir erleben sie hautnah, wie sie mit Phantasie und Engagement versuchen, ihrer geschundenen Landschaft ein wiederbewohnbares Stück Erde abzutrotzen.

کائینات کے ہر زرے میں قدرتی تخلیق چھپی ہوئی ہے

امریکہ کی Yale University میں سائنسدانوں کی طرف سے ایک دلچسپ موضوع پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کا تعلق نئی دریافت شُدہ قُدرتی لاتعداد تخلیقات کو نام دینے کے موجودہ طریقہ کار سے ہے، جو تقریباً تین صدیوں پُرانا ہے۔

ایسے مہم جوُ سائنسداں جو ایسی مچھلیوں، پرندوں اور دیگر مخلوقات کا پتہ لگاتے ہیں جن کا ماضی میں کوئی نام نہیں تھا، کا کہنا ہے کہ انہیں خالق حقیقی کی ان خوبصورت تخلیقات کو نام دینے کے عمل میں کافی دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ یہی کہنا ہے اُن محققین کا بھی جو ’فوسلز‘ یا ماضی کے کسی ارضیاتی دور کے پودے یا جانور کے ڈھانچے یا باقیات، جو زمین کی سطح یا طبقات میں سے دریافت ہوئے ہیں اور نودریافت شدہ بہت چھوٹے جرثومے یا عضویے کے بارے میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ ریسرچرز کو قدرت کی ان نئی دریافتوں کونام دینا بہت مشکل لگتا ہے۔

Voegel fliegen am Donnerstag, 8. Oktober 2009, in Frankfurt am Main, Hessen, waehrend der Nahrungssuche wild durcheinander. In den naechsten Tagen soll es der Jahreszeit entsprechend kaelter werden. (AP Photo/Michael Probst) ---Birds fly through the air looking for food in Frankfurt, central Germany, Thursday, Oct. 8, 2009. (AP Photo/Michael Probst)

حیوانات اور نباتات دونوں ہی کے نام رکھنے کے قدیم طریقے کو سائنسدان بدلنا چاہتے ہیں

جیمز پروسک تاریخ طبیعیات کے ماہر، مصنف اور فنکار ہیں۔ انہوں نے ’ٹراؤٹ‘ یعنی سرد اور تازہ پانی کی خوردنی مچھلی کی تاریخ کے بارے میں ایک با تصویرکتاب شائع کی ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے دوران انہوں نے یہ محسوس کیا کہ جاندار چیزوں کے روایتی نام دراصل سائنسی علم کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔

جیمز پروسک نے اس کی مثال ٹراؤٹ مچھلی سے دی۔ جس کی جینیاتی ریسرچ کے ذریعے وہ اس مچھلی کے بارے میں معلومات کو آسان بنارہے تھے۔ جیمز نے بچپن میں امریکی ریاست کنکٹیکٹ کی جھیلوں سے ’ بُروک ٹراؤٹ مچھلیاں‘ پکڑا کرتے تھے۔ ٹراؤٹ کی یہ قسم صرف کنکٹیکٹ میں ہی پائی جاتی ہے۔ ’رین بو ٹراؤٹ‘ مغربی امریکہ کے پانیوں میں پائی جاتی ہے۔’ براؤن ٹراؤٹ‘ کا نسب یورپی ہے۔

Impressions of the landscapes around the Baltic Sea Nord Stream is fully committed to preserving the Baltic Sea environment. The pipeline has been planned with particular consideration of environmental issues and conditions in the Baltic Sea. The Baltic Sea is unique in terms of its flora, fauna, salinity and human activities. Nord Stream has carefully studied these factors and takes them into account in the pipeline routing.

زیر زمین لاتعداد قدرتی تخلیقات کی دریافت اب تک نہیں ہوئی ہے

ان تینوں کو تاہم ٹراؤٹ ہی کہا جاتا ہے۔’بُروک ٹراؤٹ‘ کا خون قطب شمالی کی ’چارمچھلی‘ سے ملتا ہے’ رین بو ٹراؤٹ‘ اور بحرالکاہل کی سالمن مچھلی میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ جبکہ ’براؤن ٹراؤٹ‘ اٹلانٹک سالمن مچھلی کی فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ تاریخ طبیعیات کے ماہر جیمز پروسک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اُن کی اپنی کتاب کا عنوان ’ ٹراؤٹ‘ بھی اب سائنسی تحقیق کی روشنی میں صحیح نہیں ہے۔

اس اہم موضوع پرYale University اور واشنگٹن ڈی سی میں قائم Smithsonian انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ارتقائی ماہرین حیاتیات کے ساتھ جیمز پروسک ایک سمپوزیم میں حصہ لے رہے ہیں، جس کا عنوان’Naming Nature ‘ ہے۔ اس سمپوزیم کا متنازعہ مرکزی خیال یہ ہے کہ 275 سال قبل سویڈن کے ایک ماہرنباتات Carl Linnaeus کی طرف سے قدرتی تخلیقات کو نام دینے کا جو نظام ترتیب دیا گیا تھا، اُسے اب تبدیل کیا جائے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM