1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی عراقی کابینہ پر پارلیمانی اظہار اعتماد

عراقی پارلیمنٹ نے نو ماہ سے زائد عرصے کے بعد نوری المالکی کی نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دے کر حکومت سازی کا عمل مکمل کر دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس کے عراقی سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

default

نئی عراقی کابینہ

نوری المالکی کی وزارت عظمیٰ اورکابینہ کی منظوری دے کر عراقی پارلیمان نے تعطل سے عبارت سیاسی عمل ختم کر دیا ہے۔ منگل کو عراقی پارلیمنٹ نے دوسری مدت شروع کرنے والے مالکی کی حکومت کے تینتالیس نکاتی پروگرام کی بھی منظوری دے دی۔ اس پروگرام میں انسداد دہشت گردی کے علاوہ اقتصادی معاملہ بندی کو مزید فعال اور آزاد بنانے کا پلان بھی شامل ہے۔

پارلیمانی رائے دہی کے دوران علیحدہ علیحدہ مرحلوں میں وزارت عظمیٰ کے علاوہ تین نائب وزرائے اعظم اور انتیس رکنی کابینہ کی منظوری دی گئی۔ اس رائےشماری میں اراکین پارلیمنٹ نے نو عبوری وزراء کی تقرری کی توثیق بھی کر دی۔

مالکی کا وزراء کے حوالے سے یہ کہنا تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں پروفیشنل افراد کو کھپانے کی خواہش رکھتے ہیں اور حکومت سازی کے عمل کی تکمیل کے لئے بعض عبوری وزراء کو رکھا گیا ہے۔ کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کے حوالے سے مالکی نے خواتین اراکین پارلیمنٹ کی کمیابی کا ذکر بھی کیا۔ پارلیمان کی واحد خاتون رکن کو کسی وزارت کی اہل خیال نہیں کیا گیا۔

Nouri al-Maliki Irakisches Parlament spricht neuer Regierung das Vertrauen aus NO FLASH

نوری المالکی اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے

نوری المالکی کی کابینہ میں تمام گروپوں کو نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کابینہ کے حوالے سے سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ نئی حکومت عوامی امنگیں پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔ علاوی نے مالکی کی حکومت کو بھرپور حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔

حکومت سازی کا معاہدہ بڑے سیاسی گروپوں کے درمیان دس نومبر کو طے پایا تھا۔ اس کے تحت کرد رہنما جلال طالبانی صدر، عرب اور شیعہ رہنما نوری المالکی وزیر اعظم، سنی رکن پارلیمنٹ اسامہ النجیفی کو اسپیکر منتخب کیا گیا تھا۔ پچیسس دسمبر تک مالکی کو کابینہ ہر صورت تشکیل دینا تھی۔ یہ مدت اگلے ہفتہ کے روز سہ پہر کو پوری ہو رہی تھی۔

سنی سیاستدان رفیع العیساوی خزانے کی وزارت کے نگران ہوں گے۔ تیل کی وزارت عبدالکریم لوابی کو تفویض کی گئی ہے۔ ہوشیار زیباری بدستور وزیر خارجہ رکھے گئے ہیں۔ ایاد علاوی کو انتہائی اہم دستوری ادارے یعنی قومی کونسل برائے سٹریٹیجک پالیسی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس