1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پیٹریاس کا پہلا دورہ پاکستان

افغانستان میں امریکہ اور بین الاقوامی افواج کے نئے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے پیر کے روز راولپنڈی میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی۔

default

جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کے نتیجے میں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعدڈیوڈ پیٹریاس پاکستان کا پہلا دورہ

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق آج پیر کے روز جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے دوران پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں افواج کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس پہلے بھی مختلف موقعوں پر پاکستان آتے رہے ہیں لیکن افغانستان میں جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کے نتیجے میں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈئیر(ر) طلعت مسعود کے مطابق جنرل پیٹریاس کی جانب سے افغانستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد امریکہ کی افغان پالیسی پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا۔البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ اس پالیسی کے نفاذ کے طریقہ کار میں چند تبدیلیاں لائیں۔

Pakistan Armeechef General Ashfaq Pervez Kiani

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے راولپنڈی میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی سے ملاقات کی

جنرل طلعت مسعود کے مطابق ڈیوڈ پیٹریاس افغانستان میں طالبان کی نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف بڑھتی ہوئی کاروائیوں کو روکنے کے لئے پاکستان سے مزید تعاون بھی چاہیں گےاوراس ضمن میں پاکستانی فوج کو شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن کے لئے راضی کرنا بھی ڈیوڈ پٹریاس کی کوششوں کا حصہ ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈئیر (ر) اسد منیر کے مطابق جنرل پیٹریاس کے دورہ پاکستان کا ایک مقصد افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان کے ساتھ مجوزہ بات چیت کے بارے میں پاکستانی فوجی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا ہے۔

بریگیڈئیر اسد کے مطابق جنرل پٹریاس طالبان کے ساتھ بات چیت کے لئے پاکستان کے کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اورپاکستان بھی اپنی اسی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ادھر پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے بھی پیر کے روزآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ISPR کے مطابق امریکی سفیر کچھ دیر تک آرمی چیف کے ساتھ رہے اور مختلف امور پر بات چیت ہوئی ۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے آئندہ ہفتے کے مجوزہ دورہ پاکستان اور پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ پر ہونے والی پیش رفت کے علاوہ آئندہ مرحلے پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے ۔

دریں اثناءپاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک نے گزشتہ جمعہ کو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں خود کش حملے کی ذمہ داری افغان طالبان پرعائد کرتے ہوئے افغان اورنیٹو فورسزپرزوردیا ہے کہ وہ طالبان کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکیں۔

ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں رحمان ملک نے کہا کہ خفیہ معلومات کے مطابق مہمند ایجنسی میں حملہ افغان صوبے کننڑ سے آنے والے طالبان نے کیا۔

رحمن ملک نے بین الاقوامی برادری سےبھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کے سبب پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شدت پسندوں کو روکنے میں مدد کریں۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM