1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی دہلی:  ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے پریڈ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے سر گرمِ عمل سینکڑوں کارکنان نے ایک احتجاجی مظاہرے میں ہم جنس پرست کارروائیوں کو جرم قرار دینے والے قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

Indien Homosexuelle Gender Rechte Demonstration Regenbogenfahne (AP)

بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہم جنس پرستوں کو معاشرے کا حصہ تسلیم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے

یہ افراد ہم جنس پرستوں کی آج بروز اتوار مورخہ ستائیس نومبر کو ہونے والی ایک سالانہ پریڈ میں شامل تھے۔ ڈرم کی تھاپ پر ’سالانہ گے پرائڈ پریڈ‘ کے شرکاء میں سے چند  کا کہنا تھا کہ گزرے برسوں میں ہم جنس پرستوں کی  قُبولیت کے حوالے سے معاشرے کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اب لوگ اُنہیں تسلیم کرنے لگے ہیں۔ البتہ دیگر افراد کا موقف تھا کہ دائیں بازو کے خیالات کی حامل بھارت سرکار ہم جنس پرست مرد اور عورتوں اور  مخنث افراد کو حقوق دینے کے خلاف ہے۔

سن 2009 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھارتی پینل کورٹ کوڈ کے سیکشن 377 کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس شق میں ہم جنس پرستوں کے مابین جنسی اختلاط کو غیر فطری عمل قرار دیا گیا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ چار سال بعد اُس وقت بدل  گیا تھا، جب بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی قانون میں ترمیم یا تنسیخ کا فیصلہ عدلیہ کا نہیں بلکہ پارلیمان کا کام ہے۔ اِس قانون کے تحت ہم جنس پرستی کے مرتکب افراد کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

Indien Homosexuell Rechte Parade (Picture-Alliance/AP Photo/T. Topgyal)

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے پریڈ کا انعقاد کیا گیا

 پریڈ میں شامل تینتیس سالہ ماہرِ تعمیرات جین سارو کا کہنا تھا، ’’ حالات میں بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ ‘‘ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے سر گرم کارکن  رِیتو پرنا بوراہ البتہ زیادہ پُر امید دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ بوراہ  نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ  بھارتی وزیرِ اعظم مودی کی ہندو قوم پرست حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق دینے کے معاملے میں حوصلہ افزائی نہیں کر رہی۔

بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہم جنس پرستوں کو معاشرے کا حصہ تسلیم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور سے بڑے شہروں میں۔ بہت سے بارز میں باقاعدہ ’گے نائٹس‘ کا انعقاد ہوتا ہے اور بالی وڈ میں کئی فلمیں ہم جنس پرستوں کے موضوع پر بن چُکی ہیں۔ اس کے باوجود ہم جنس پرستی کو شرم ناک عمل سمجھا جاتا ہے اور بہت سے ہم جنس پرست خود کو چُھپا کر رکھتے ہیں۔

 

DW.COM