1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی دہلی، ٹیکسی میں ’ریپ‘ جرم ثابت ہو گیا

بھارت کی ایک عدالت نے ’اُوبر ٹیکسی‘ کے ایک ڈرائیور کو اپنی ایک مسافر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ ڈرائیور شیو کمار یادو نے پانچ دسمبر کو اپنی ٹیکسی میں ہی ایک لڑکی کی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ نئی دہلی کی ایک عدالت نے ٹیکسی ڈارئیور شیو کمار یادو کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ اس نے نہ صرف لڑکی کو دھمکایا، اسےاغوا کیا بلکہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب بھی ہوا۔

گزشتہ برس پانچ دسمبر کو یہ واردات پیش آئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی کی ایک چھبیس سالہ لڑکی نے اوبر ٹیکسی کرائی تھی۔ تاہم انٹر نیٹ پر سروس فراہم کرنے والے ادارے اوبر کا ایک ڈرائیور اس لڑکی کو منزل پر پہنچانے کے بجائے ایک سنسان علاقے میں لے گیا، جہاں اس نے اسے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

نئی دہلی حکومت نے اس واقعے کے بعد اوبر اور انٹرنیٹ پر ٹیکسی کی سروسز فراہم کرنے والے دیگر اداروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ حکومت کے مطابق یہ ادارے ٹیکسی ڈرائیوروں کی مناسب پڑتال کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ تاہم یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں اس پابندی پر مکمل طور پر ابھی تک عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

’اوبر ٹیکسی‘ کے بھارت میں صدر امیت جین نے اس عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، ’’جنسی حملہ ایک بھیانک جرم ہے۔ ہم مطمئن ہیں کہ مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی کی اوّلین ترجیح ہے کہ مسافروں کی حفاظت ممکن بنائی جائے، اس لیے انہوں نے اپنی سروسز میں کافی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل اُتل شری واستو نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ملزم پر عائد تمام الزمات ثابت ہو گئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ شیو کمار یادو کو تئیس اکتوبر کو سزا سنائی جائے گی۔ وکیل صفائی دھرمنیدر کمار مشرا کے مطابق وہ عدالتی فیصلے کی تفصیل کا معائنہ کرنے کے بعد اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’میں پہلے دیکھوں گا کہ کن حقائق پر میرے موکل کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔‘‘

ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد پانچ دسمبر کی رات واپس گھر لوٹ رہی تھی تو اسے ٹیکسی ڈرائیور نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیا میں اس خاتون کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

Proteste für Uber Verbot in Indien 07.12.2014

بھارت میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں

نئی دہلی میں قائم سینٹر فار سوشل رسرچ نامی ایک ادارے کی سربراہ رنجنا کماری نے بھی اس عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے خیال میں یہ عدالتی فیصلہ انتہائی اہم ہے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب ریپ کے واقعات میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں 2014ء کے دوران ریپ کے چھتیس ہزار سات سو پینتیس کیسز رجسٹر کیے گئے تھے۔ ان میں سے دو ہزار چھیانوے کیس دارالحکومت نئی دہلی میں ہی رونما ہوئے۔ حقوق نسواں کے لیے سرگرم اداروں نے البتہ کہا ہے کہ یہ صرف وہ کیسز ہیں، جو ریکارڈ ہوئے جبکہ گزشتہ برس حقیقی طور پر ایسے واقعات کی تعداد کہیں زیادہ رہی۔