1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی دہلی میں ریڈیو ایشیا کانفرنس کا اختتام

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایشیا میں ریڈیو کے کردار اور عوامی رابطے کے اہم میڈیم کے طور پر ریڈیو کی حیثیت سے متعلق ایک تین روزہ کانفرنس بدھ کو ختم ہو گئی۔

default

کانفرنس میں شریک ڈوئچے ویلے کے گراہیم لوکاس

پیر کو شروع ہو نے والی اس کانفرنس کو ریڈیو ایشیا 2010 کا نام دیا گیا تھا،جس میں شریک کئی ملکوں کے ریڈیو سے منسلک بہت سے ماہرین نے متعدد نشستوں میں اس بارے میں بحث کی کہ ذرائع ابلاغ کے شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور ریڈیو کی مسلسل افادیت کو ہم آہنگ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

Radyo Metropol auf Erfolgswelle

اس کانفرنس میں ایف ایم چینلز کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی گئی

نئی دہلی میں بدھ کو ختم ہونے والے اس بین الاقوامی اجتماع میں اس بارے میں بھی تفصیلی بحث ہوئی کہ ریڈیو پروگرامنگ میں روایتی کارکردگی سے ہٹ کر ڈیجیٹل پروگرامنگ کے امکانات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے۔ ریڈیو ایشیا 2010 نامی اس اجتماع میں ایک اہم موضوع یہ بھی تھا‍ کہ صارفین کی مختلف منڈیوں میں کئی طرح کے سامعین کی بہت متنوع ضروریات اور خواہشات کو بہتر پروگرامنگ کے ذریعے کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔

کئی ایشیائی ملکوں میں گ‍زشتہ برسوں کے دوران جو بےشمار نجی FM چینل کام کرنا شروع کر چکے ہیں، انھیں اکثر اپنے اپنے ملکوں میں حکومتوں اور سرکاری نشریاتی اداروں کی طرف سے مخالفت یا عدم تعاون کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ریڈیو ایشیا کانفرنس میں شریک بھارت کے ’ریڈیو مرچی‘ کے چیف پروگرامنگ آفیسر تپاس سین نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ نجی ایف ایم چینلز کو شروع سے ہی حکومت کو اس امر کا قائل کرنے میں بہت دشواری پیش آئی کہ ایسے چینل بھی اپنی نشریات میں اگر خبریں پیش کرتے ہیں تو یہ کوئی بری بات نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق : ’’اب حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہماری سفارشات پر ہمدردی سےغور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس لیے بہتر ہے کہ شروع میں اگر ہم All India Radio جیسے سرکاری نشریاتی اداروں سے لی گئی خبریں نشر کرتے ہیں تو مستقبل میں ہم مختلف خبر ایجنسیوں سے ملنے والی معلومات کو اپنے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ خبرناموں کی تیاری کے لیے استعمال کر سکیں گے۔‘‘

اس کانفرنس کا اہتمام ایشیا پیسیفک براڈکاسٹنگ یونین نے کئی بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے کیا تھا۔ ان میں ورلڈ ڈیجیٹل ریڈیو DRM اور جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ڈوئچے ویلے بھی شامل تھا۔ اس کانفرنس میں DW کی نمائندگی شعبہء جنوبی ایشیا کے سربراہ گراہیم لوکاس نے کی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM