1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی دہلی میں امریکی خاتون سیاح کا مبینہ گینگ ریپ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے شہر کے ایک مہنگے ہوٹل میں ایک امریکی خاتون سیاح کے اس کے مقامی گائیڈ اور چار دیگر مردوں کے ہاتھوں گینگ ریپ کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ پولیس کو اس جرم کی اطلاع خود اس خاتون نے دی۔

نئی دہلی سے اتوار چار دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس امریکی خاتون کا بھارتی دارالحکومت میں گینگ ریپ اس سال اس کے دورہء بھارت کے دوران کیا گیا اور یہ واقعہ بھارت میں جنسی جرائم کے اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے، جس میں بھارت کی سیاحت کے لیے آئی ہوئی غیر ملکی خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بھارت:40 فیصد خواتین 19 برس سے کم عمر میں تشدد کا شکار

گزشتہ برس نئی دہلی میں یومیہ چھ خواتین ریپ کا شکار ہوئیں

بھارت میں پے در پے جنسی زیادتی کے واقعات، وجہ کیا ہے؟

اے ایف پی کے مطابق اس اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون اس وقت امریکا میں ہے، جہاں سے اس نے نئی دہلی پولیس کو خود یہ شکایت درج کرائی ہے۔ شروع میں اس خاتون کی طرف سے بھارتی پولیس سے رابطہ امریکا میں سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے کیا گیا تھا۔

نئی دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر مکیش مینا نے اتوار کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ گینگ ریپ کا ایک مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور متعلقہ خاتون کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی روشنی میں ہر پہلو سے مکمل چھان بین کی جائے گی۔

Neu Delhi Protest Vergewaltigung Freilassung Indien (picture-alliance/dpa/Xinhua)

بھارت میں مقامی خواتین کے علاوہ غیر ملکی خاتون سیاحوں پر جنسی حملوں کے واقعات بھی اکثر سننے میں آتے ہیں

اس مبینہ واقعے کی اطلاع ملنے اور اس حوالے سے ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی ابتدائی رپورٹوں کے بعد بھارتی ‌خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گینگ ریپ کے ذمے دار ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں سزا دلوائی جائے۔

اس بارے میں سشما سوراج نے ہفتے کی رات ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’میں نے امریکا میں بھارتی سفیر کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس جرم کا نشانہ بننے والی خاتون سے رابطہ قائم کر کے انہیں یقین دلائیں کہ ملزمان کو ان کے کیے کی سزا ضرور دلائی جائے گی۔‘‘

بھارتی میڈیا نے پولیس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس امریکی خاتون نے ایک سیاح کے طور پر بھارت کا دورہ اس سال اپریل میں کیا تھا اور اپنے خلاف اس اجتماعی جنسی جرم کے ارتکاب کے بعد وہ اپنا دورہ قبل از وقت ہی ختم کر کے واپس امریکا چلی گئی تھی۔

Indien Touristinnen in New Delhi (uni)

کئی مغربی ملکوں کی حکومتوں کی طرف سے اپنے شہریوں کو بھارت کی سیاحت کے دوران جنسی حملوں کے خطرے سے خبردار بھی کیا جاتا ہے

بھارتی اخبار سنڈے ٹائمز آف انڈیا میں آج شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس امریکی خاتون نے بھارتی پولیس کو بتایا، ’’میرے مقامی ٹور گائیڈ کو دوران سیاحت مختلف انتظامی امور کے لیے ہوٹل میں میرے کمرے تک رسائی حاصل تھی۔ اس نے مجھے پینے کے لیے پانی کی ایک بوتل دی، جس کے بعد مجھے چکر آنے لگے۔ بعد میں اس نے اپنے چار دیگر شناسا مردوں کو بھی میرے کمرے میں بلا کر دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ پھر ان پانچوں ملزمان نے مجھے ہوٹل میں میرے ہی کمرے میں ریپ کیا۔‘‘ اس امریکی خاتون کی شناخت اور نئی دہلی کے متعلقہ ہوٹل کا نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

اے ایف پی کے مطابق بھارت میں غیر ملکی خاتون سیاحوں پر جنسی حملوں کے واقعات اکثر سننے میں آتے ہیں اور کئی مغربی ملکوں کی طرف سے اپنے شہریوں کو اس بارے میں بھارت جاتے ہوئے باقاعدہ خبردار بھی کیا جاتا ہے۔ ابھی گزشتہ مہینے ہی جنوبی بھارت میں ایک 35 سالہ جاپانی خاتون سیاح کو بھی ریپ کر دیا گیا تھا۔

DW.COM