1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی دہلی میں اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ

بھارتی پولیس نے اجتماعی زیادتی کے ایک واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے روزگار کے بہانے ایک نوعمر لڑکی کی آبروریزی کی۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس کے مطابق ایک سترہ سالہ لڑکی نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ اسے اس کے پڑوسی جے پور سے نئی دہلی لائے تھے اور انہوں نے اس لڑکی سے ملازمت کا وعدہ کیا تھا۔ ’’مجھے ایک ہوٹل میں لے جایا گیا، جہاں پر مینیجر سمیت دس افراد موجود تھے۔ اس کے بعد ان سب نے مل کر میرے ساتھ زیادتی کی۔‘‘ اس نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے وہ ان افراد کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوئی۔

نئی دہلی پولیس کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فرار ہونے کے بعد متاثرہ لڑکی نے پولیس سے رابطہ کیا اور تمام صورتحال واضح کی۔ ’’ اس کی شکایت پر ہم نے اب تک چھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ اس سلسلے میں ہوٹل میں نگرانی کے لیے نصب کیمروں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔‘‘ اس پولیس افسر نے یہ بیان شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر دیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ تیس اگست کو رونما ہوا تھا اور اس سلسلے میں ہونے والی گرفتاریوں کی تفصیلات پولیس نے آج منگل کے روز عام کی ہیں۔

2012ء میں دارالحکومت نئی دہلی میں ہی ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی زیادتی کے واقعے پر بھارت میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر بھی بہت زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ اس دوران انسانی اور شہری حقوق کی تقریباً تمام ہی تنظیموں نے بھارتی حکومت سے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد ہی بھارت میں آبروریزی کے قوانین اور سزاؤں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات بھی عمل میں لائی گئیں۔

اب آبروریزی کے مقدموں کو تیزی سے سنا جاتا ہےاور سزاؤں کو بھی مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی جے پور کی ایک عدالت نے ایک جاپانی لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے میں ملوث تین افراد کو بیس بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جے پور سیاحت کے حوالے سے عالمی سطح پر بہت شہرت رکھتا ہے۔