1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی دہلی سو برس کا ہو گیا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی رواں ماہ سو برس کا ہو جائے گا مگر ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا اس موقع پر کوئی تقریبات منائی جائیں گی یا پھر برطانیہ کے نوآبادیاتی دور کی علامت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے گا۔

default

بارہ دسمبر 1911ء کو تاج برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم نے پرانے دہلی شہر کے شمال میں ایک قطعہء زمین پر تمام ہندوستانی شہزادوں اور حکمرانوں کا ایک شاندار دربار منعقد کر کے اعلان کیا تھا کہ ملک کا دارالحکومت کلکتہ سے وہاں منتقل کیا جائے گا۔

جارج پنجم کا یہ فیصلہ اس بنیاد پر تھا کہ کلکتہ میں امن و امان کی صورت حال بگڑتی جا رہی تھی اور اس کے علاوہ دفاعی نقطہ نظر سے دہلی برصغیر کے قلب میں واقع تھا۔

Großbritannien König Georg V.

برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم

اب ایک سو برس گزرنے کے بعد دہلی بھارت کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور دریائے جمنا کے آر پار پھیلے ہوئے اس کے نواحی علاقوں میں 1 کروڑ 80 لاکھ تک نفوس بستے ہیں۔

دہلی کی وزیر اعلٰی شیلا ڈکشٹ نے اس دن کو منانے کی تقریبات سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’’ابھی اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے کہ کس چیز کی اور کیسے تقریبات منائی جائیں۔ وزارت ثقافت نے ایک منصوبہ تو وضع کیا ہے، لیکن ابھی ان کی واضح سمت متعین نہیں ہے۔‘‘

Indien Großbritannien Krönung von König Georg V. in Delhi

شاہ جارج پنجم اور ملکہ میری 12 دسمبر 1911ء کو ہندوستان کے دورے پر

جارج پنجم نے جس مقام پر1911ء میں دربار منعقد کیا تھا بعد میں اس کی بجائے پرانے شہر کے جنوبی علاقے کو منتخب کیا گیا اور دربار والی جگہ کو 1947ء میں آزادی کے بعد برطانوی سامراج کی نشانی مجسموں کا قبرستان بنا دیا گیا۔

’کورونیشن پارک‘ کہلانے والی اس جگہ کو کئی دہائیوں تک نظر انداز اور فراموش کیا گیا مگر اب آہستہ آہستہ اس کی تزئین و آرائش کا کام شروع ہو رہا ہے، تاہم یہ 12 دسمبر کی تقریبات کے لیے تیار نہیں ہو گا۔

دہلی میں انڈین نیشنل ٹرسٹ برائے فنون و ثقافتی ورثہ کے سربراہ اے جی کرشنا مینن کے بقول ایک سو برس پہلے کے واقعات پر خوشی منانا ایک طرح سے تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا، ’’نئی دہلی کا ڈیزائن انگریزوں نے تیار کیا تھا مگر اس کی تعمیر ہندوستانی مزدوروں، معماروں اور صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘

دہلی میں آنے والے اکثر سیاحوں اور مقامی افراد کے خیال میں نئی دہلی میں نوآبادیاتی دور کا طرز تعمیر بھارت کے قابل دید مقامات میں سے ایک ہے جس میں 340 کمروں پر مشتمل صدارتی محل بھی شامل ہے، جہاں کبھی وائسرائے ہند پورے ہندوستان پر حکومت کرتے تھے۔

U-Bahn Delhi

نئی دہلی میں میٹرو ٹرین اور دیگر دور جدید کی سہولیات کے فروغ پانے کے بعد شہریوں کو ملک کی نوآبادیاتی تاریخ میں دلچسپی نہیں رہی

برطانوی راج کے امور پر گہری نگاہ رکھنے والے ایک بھارتی تاریخ دان مہیش رنگاراجن کا کہنا تھا، ’’یہ دہلی کو1911ء میں ایک بار پھر بھارتی دارالحکومت بنانے کی سالگرہ منانے کا موقع ہے۔‘‘

دہلی کے حکام 12 دسمبر کو اس حوالے سے چند تقریبات منانے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر شہر کے بیشتر باسی اپنے شہر کی سو سالہ تاریخ کے بارے میں لاعلم رہیں گے۔ نئی دہلی میں میٹرو ٹرینوں، شاہراہوں اور سیٹیلائٹ ٹاؤنز کے تیزی سے فروغ پانے کے بعد بہت سے شہری برطانیہ کی نوآبادیاتی تاریخ میں دلچسپی لینے کی بجائے ایک نئے عالمگیر نظام میں بھارت کو ایک مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM