1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نئی دہلی خواتین کے لئےخطرناک، سروے

اقوام متحدہ اور بھارتی حکومت کی طرف سے کروائے گئے ایک مشترکہ سروے کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی میں پانچ میں سے ہر تیسری خاتون کو کسی نہ کسی طریقے سے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

default

بھارتی حکومت کے تعاون سے کئے گئے اس سروے کے نتائج کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تقریبا 85 فیصد خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

اس سروے میں پانچ ہزار سے زائد خواتین سے انٹرویوز کئے گئے۔ اس کے نتائج کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں سکونت پذیر خواتین کو زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

پچاس فیصد خواتین نے بتایا کہ انہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سروے میں جن خواتین سے انٹرویوز کئے گئے، انہوں نے بتایا کہ انہیں دن میں بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔

U-Bahn Delhi

نئی دہلی میں میٹرو میں بھی جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات ہوتے ہیں

اس سروے میں انٹرویو دینے والی ایک خاتون پراگتی نے کہا : ’’ یہ زیادہ تر بسوں میں ہوتا ہے۔ مرد ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے آپ کو چھو سکیں۔ یہ بھی اکثر اوقات ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی وجہ کےآپ کا پیچھا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘‘

اس سروے کے نتائج کے مطابق نئی دہلی میں آباد زیادہ تر خواتین، دن ہو یا رات، خوفزدہ رہتی ہیں، بالخصوص سکول اور کالج جانے والی نو عمر لڑکیاں اور ایسی خواتین جو انفارمل سیکٹر میں کام کرتی ہیں، وہ قابل رحم ہیں۔

اس سروے میں اپنی رائے دینے والی شویتا کہتی ہیں،’’ حتیٰ کہ آپ اگر سڑک کے کنارے کسی مارکیٹ میں بھی جائیں تو وہاں بھی آپ کو ہراساں کرنے کے لئے لوگ موجود ہوں گے۔‘‘

بھارتی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ خواتین کو اس طرح ذہنی تشدد کا نشانہ بنانا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ وزرات برائے بہبود آبادی و خواتین کی وزیرکیرن والیہ نے ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’ ہم پارلیمان میں یہ تجویز پیش کریں گے، اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے بسوں میں سی سی ٹی وی کمیرے نصب کئے جائیں۔ ہم ایسے قوانین کی تیاری کے لئے بھی کام کر رہے ہیں ، جس کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک قابل ضمانت جرم نہ ہو اوراس حوالے سے مزید سخت ضوابط تیار کئے جا سکیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM