1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی دہلی ایران میں سرمایہ کاری کے لیے تیار

بھارتی حکومت ایران میں مختلف منصوبہ جات کے تحت 15.2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے نئی دہلی حکومت بہتر شرائط اور کم قیمت پر ایرانی گیس حاصل کرنا چاہتی ہے۔

default

ایرانی صدر حسن روحانی نے نئی دہلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ چابھار بندرگاہ کے ترقیاتی پروگرامز میں بڑے پیمانے پر کردار ادا کر سکتا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھارتی جہاز رانی کے وزیر نیتن گڑکِری کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی حکومت ایران کی چاپھار نامی بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبہ جات کو بھی مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ نیتن گڑکِری کا کہنا ہے کہ اگر ایران نئی دہلی حکومت کو مناسب شرائط اور سستی قیمتوں پر گیس فراہم کرتا ہے تو بھارت کو ایران میں سرمایہ کاری سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

بھارت کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جنہوں نے ایران پر عالمی پابندیوں کے باوجود اس سے اقتصادی تعلقات ترک نہیں کیے تھے۔ چین کے بعد بھارت ہی دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، جو ایرانی تیل کا خریدار ہے۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ڈیل طے پا جانے کے بعد اب تہران کے ساتھ اقتصادی منصوبہ جات کے لیے کئی ممالک تہران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہیں۔

بھارتی جہاز رانی کے وزیر نیتن گڑکِری نے بدھ کے دن کہا، ’’ہم ایران میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں اور اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ایران ہمیں گیس کس قیمت پر فراہم کرنے کو تیار ہے۔‘‘ نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’ گیس کی قیمیتیں ایک اہم معاملہ ہیں۔‘‘

عالمی طاقتوں کے ساتھ جولائی میں طے پانے والی جوہری ڈیل کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے نئی دہلی حکومت سے کہا تھا کہ وہ ایران میں انفراسٹرکچر منصوبہ جات بشمول چابھار بندرگاہ میں ترقیاتی پروگرامز میں بڑے پیمانے پر کردار ادا کر سکتا ہے۔ بھارتی حکومت متوقع طور اکتوبر کے اوائل میں ایران کی اس پیشکش پر حتمی فیصلہ کر لے گی۔ اس سلسلے میں بھارتی حکام متعلقہ محکمہ جات اور وزارتوں سے تجاویز اکٹھی کر رہے ہیں۔

Iran Hafen Kalantari Stadt Chabahar Iran Golf von Oman

یہ بندر گاہ وسائل کی دولت سے مالا مال وسطی ایشیائی ممالک کے لیے بھی ایک اہم راستہ تصور کی جاتی ہے

بھارت کے لیے چابھار بندرگاہ حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کی جاتی ہے۔ ایران کے جنوب مشرقی ساحل میں واقع یہ بندرگاہ پاکستانی ساحلی علاقوں سے بھی زیادہ دور نہیں ہے جبکہ یہ مقام بھارت اور افغانستان کے مابین ایک اہم راستہ بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت افغان حکومت کے ساتھ بھی قریبی اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات قائم کر رہا ہے۔ یہ بندر گاہ وسائل کی دولت سے مالا مال وسطی ایشیائی ممالک کے لیے بھی ایک اہم راستہ تصور کی جاتی ہے۔

بھارت کی کوشش ہے کہ تہران حکومت اسے یہ گیس 1.50 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کے حساب سے دے جبکہ فی الوقت تہران نے یہ قیمت 2.95 ڈالر لگا رکھی ہے۔ بھارتی وزیر نیتن گڑکِری کے مطابق، ’’اگر ایران گیس کی مناسب قیمت لگاتا ہے تو تمام ملکی محکمے مل کر تمام منصوبہ جات کی ذمہ داریاں سنبھالنے کو تیار ہو جائیں گے اور یوں ایران میں مجموعی بھارتی سرمایہ کاری ایک ٹریلین روپے سے زیادہ ہو جائے گی۔