1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نئی دستاویزی فلم ’’کیپیٹل ازم، اے لو سٹوری‘‘

وینس کے فلمی میلے میں اپنی تہلکہ خیز دستاویزی فلموں کے لئے مشہور امریکی ہدایتکار مائیکل مُور کی سرمایہ دارانہ نظام پر بنائی گئی تازہ ترین فلم، ’’کیپیٹل ازم، اے لو سٹوری‘‘ بھی دکھائی جا رہی ہے۔

default

مائیکل مُور کی سرمایہ دارانہ نظام پر تہلکہ خیز دستاویزی فلم وینس کے فلمی میلے میں

اِس فلم میں مائیکل مُور نے اِن دنوں بحران کی لپیٹ میں آئے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ یہ فلم اُن چوبیس فلموں میں سے ایک ہے، جو وینس میلے کے بہترین فلم کے اعلیٰ ترین اعزاز گولڈن لائن کے لئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ پچپن سالہ مائیکل مُور اِس میلے میں پہنچے تو اُن کے مداح بھی اُن سے زیادہ دور نہیں تھے اور اُنہوں نے اِس امریکی ہدایتکار کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔

وینس میں مُور کی تازہ ترین فلم کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اپنی سابقہ فلموں کی طرح اِس فلم میں بھی وہ جو کچھ کہتے ہیں، بڑے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں۔ فلم کے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا:’’یہ فلم یورپی باشندوں کے لئے بلکہ دیکھا جائے تو دنیا کے سبھی انسانوں کے لئے اہم ہے کیونکہ بالآخر وہی ہیں، جنہیں مالیاتی بحران کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور یہ بحران سب سے پہلے وال سٹریٹ سے شروع ہوا تھا۔‘‘

Flash-Galerie Venedig 2009 Biennale

وینس میں مُور کی تازہ ترین فلم ’’کیپیٹل ازم، اے لو سٹوری‘‘ دکھائی جا رہی ہے

اِس دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں مالیاتی شعبے میں خرابی کے ذمہ دار وہ مراکز ہیں، جہاں مالیاتی معاملات طے کئے جاتے ہیں۔ یہ فلم جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے بڑے اداروں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے پر ابھارتی ہے۔ حسبِ روایت اِس فلم میں بھی مُور کا تجزیہ تلوار کی دھار کی طرح تیز اور اشتعال انگیز ہے۔ نیویارک میں قائم بڑی امریکی انشورنس کمپنی اے آئی جی کی قیادت کے لئے اُن کا پیغام، سب کو گرفتار کر لیا جانا چاہیے:''مَیں مائیکل مُور ہوں۔ ایک شہری کے طور پر مَیں یہاں اے آئی جی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو گرفتار کروانے کے لئے آیا ہوں۔‘‘

مائیکل مُور کی نظر میں سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کا آغاز تیس سال پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ درست سوالات پوچھے جائیں۔ فلم کے ایک منظر میں مائیکل مُور ایک خاتون سے سوال کرتا ہے کہ ’’ہمارا پیسہ کہاں ہے؟‘‘، جواب میں وہ خاتون کہتی ہے:’’مجھے نہیں پتہ۔‘‘

عجیب بات لیکن یہ ہے کہ اگر مُور کی یہ فلم کامیابی سے ہم کنار ہو جائے اور مثلاً بہترین فلم کا اعلیٰ ترین اعزاز گولڈن لائن اس فلم کے حصے میں آ جائے تو خود مُور کو بھی ڈھیروں آمدنی ہو گی اور وہی پیسہ، جس کے بارے میں وہ سوال کر رہے ہیں، خود اُن کی اپنی جیب میں بھی چلا جائے گا۔

مائیکل مُور نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کی پالیسیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنی تنقیدی فلم ’’فاہرن ہائیٹ نائن الیون‘‘ کے لئے سن 2004ء میں فرانسیسی کان بین الاقوامی فلمی میلے میں بہترین فلم کا گولڈن پام ایوارڈ حاصل کیا تھا۔