1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی جرمن حکومت: توقعات اور خدشات

جرمنی میں انگیلا میرکل کو پارلیمنٹ میں نئی چانسلر منتخب کر لیا جائے گا۔ یہ اب ایک ضابطے کی کارروائی رہ گئی ہے۔ آئندہ چار سالوں میں انگیلا میرکل اور اُن کی کابینہ کو کئی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

default

جرمن پارلیمنٹ کے اسپیکر نوربیرٹ لامیرٹ منتخب ہونے کے بعد چانسلر میرکل کے ساتھ

جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں نے گزشتہ روز سابق اسپیکر نوربیرٹ لامیرٹ کو آئندہ چار سالہ مدت کے لئے اسپیکر منتخب کر لیا ہے۔ چھ سو سترہ رکنی پارلیمان میں اُن کو پانچ سو بائیس ووٹ حاصل ہوئے۔

جرمنی میں حکومت سازی کا عمل اب آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ آئندہ مرحلے میں آج بدھ کو پارلیمان چانسلر انگیلا میرکل کو دوسری مدت کے لئے جرمنی کی سربراہ حکومت منتخب کر لے گا۔ یہ بات یقینی ہے کیونکہ نئی مخلوط حکومت کی حلیف جماعتوں نے اِس کو اپنے سمجھوتے میں شامل کر رکھا ہے۔ اِس کے بعد وہ اور اُن کی کابینہ اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔

دوسری جانب جرمنی کی نئی مخلوط حکومت کے سمجھوتے کے نکات پر اندرون ملک سخت تنقیدی جاری ہے۔ ٹریڈ یونینز، تجزیہ کار اور اپوزیشن جماعتیں بڑھ چڑھ کر نئی حکومت کے پلان کو ناقدانہ انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ سب متفق ہیں کہ نئی حکومت آغاز سے ہی غلط سمت کا انتخاب کر بیٹھی ہے۔ جرمن جریدے ڈیر شپیگل کے سیاسی کالم نگار کرسٹوف شوینیکے نے ایک ادارتی نوٹ میں نئی مخلوط حکومت کو اُس کی ممکنہ پالیسیوں کے تناظر میں جراسک پارک سے تعبیر کیا ہے۔

Der wiedergewaehlte Praesident des Bundestags Norbert Lammert

جرمن پارلیمنٹ کا منگل کے روز ہونے والا اجلاس

چانسلر انگیلا میرکل کے وزراء کو اپنی اپنی وزارتوں کے دائروں میں کئی پہلوؤں سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ مشکلات کوئی ایک سمت والی نہیں بلکہ اِن کو ہفت پہلو اور کچھ الجھی ہوئی ڈور سے تعبیر کرتے ہیں جس کا سرا ملنا مشکل ہو گا ۔

وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے والے وولف گانگ شوئبلے پہلے ہی اپنے تازہ انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ آئندہ چار سالوں میں متوازن بجٹ پیش کرنا بعید ازقیاس ہو گا۔ وولف گانگ شوئبلے کو بجٹ کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے بجٹ خسارے کو کم کرنے پر بھی بہت توجہ دینا ہو گی جس کا حجم کھربوں یورو تک پہنچ چکا ہے۔ ٹیکسوں میں کٹوتی کو بھی ایک مشکل چیلنج خیال کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ تنقید بنا ہوا ہے۔

BdT Konstituierende Sitzung des Bundestages

چانسلر میرکل اپنے نئے وزیر صحت کےساتھ

اس کے ساتھ ساتھ کساد بازاری کے اثرات میں لپٹی جرمن اقتصادیات کو تحریک دینا بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ابھی تک جرمن اقتصادیات کمزور بنیادوں پراستوار ہے۔ اربوں ڈالر کے تحریکی پیکج بھی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ مالی اداروں کے لئے سخت قوانین کا متعارف کرانا اور اُن پر حدود و قیود بھی ایک مشکل محاذ ہے۔

نئے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے امریکی صدر اوباما کی تقلید میں اپنے ملک کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سردست جرمنی کے اندر دس سے بیس تک امریکی جوہری میزائل موجود ہیں اور اگر اُن کی باہر منتقلی کی بات شروع ہو جاتی ہے تو چانسلر میرکل کو آئندہ ماہ کے امریکی دورے میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے خاصے سوالوں کا سامنا ہو گا۔

اُن کو افغانستان کے مسئلے پر بھی خاصی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ ویسٹر ویلے لبنان میں اقوام متحدہ کی ٹاسک فورس سے بھی جرمنی کا انخلاء چاہتے ہیں۔ یہ مشکل بین الاقوامی معاملات ہیں جن پر نئے وزیر خارجہ کو کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Unterzeichnung des schwarz-gelben Koalitionsvertrags

جرمنی کے نئے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلےدائیں جانب

جرمنی کے نئے وزیر دفاع کارل تھیوڈور سُو گٹین بیرگ ہیں۔ اُن کو جرمنی کی افغان پالیسی کو سنبھالنا ہے۔ وہ اور وزیر خارجہ کس طرح اِس معاملے میں امریکی خواہش کو پورا کریں گے کہ افغانستان میں مزید فوجیوں کی ضرورت ہے اور فوجیوں کی تعیناتی میں اضافے کا اعلان کرکےجرمنی ایک فعال کردار ادا کرے۔ افغانستان میں پیدا شدہ گھمبیر صورت حال کے تناظر میں نئے وزیر دفاع کو بھی سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہو گا۔

سابق وزیر دفاع فرانز یوزیف یونگ نئی مخلوط حکومت میں وزیر محنت کا منصب سنبھالیں گے۔ اُن کو جن مشکلات کا بطور وزیر دفاع سامنا تھا اُس سے کہیں زیادہ بحران زدہ اقتصادی صورت حال کی وجہ سے بے روزگاری کی بڑھتی شرح کا سامنا کرنا ہو گا۔ اِس کے علاوہ نئے وزیر محنت کو جرمنی کی مضبوط ٹریڈ یونینوں کا بھی سامنا کرنا ہو گا جو حلیف جماعت ایف ڈی پی کے نظریات پر پہلے ہی شاکی ہیں۔ اندرونِ خانہ کئی مسائل کا اُنہیں آئندہ چار سالوں میں جواب دینا ہو گا۔ اس حوالے سے امکان ہے کہ ہیلتھ انشورنس میں نئی پالیسی اہم ہو سکتی ہےجس میں آجر اپنے ملازمین کے حصے کی انشورنس شاید ادا نہ کرے اور تمام انشورنس کا بوجھ ملازم پر آن پڑے گا جو پہلے سے پریشان جرمن ملازم پیشہ اور مزدور طبقے کو مزید الجھاؤ کا شکار کر دے گی۔

جرمنی کے نئے وزیر صحت فلپ روئیزلیر کو اس منصب پر فائز ہونے کے بعد خاصی شہرت ملی ہے۔ چھتیس سالہ ماہر امراضِ قلب کو میرکل حکومت کی نئی مدت کے دوران پیچیدگیوں سے عبارت صحت عامہ کے شعبے کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا امکانی طور پر فریضہ سونپا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اربوں یورو کے ہیلتھ سیکٹر کے لئے مخصوص بجٹ کو وہ کس انداز میں استعمال میں لاتے ہوئے۔ اس میں حیران کُن تبدیلیاں لاتے ہیں جو حکومت کے لئے ستائش اور عام آدمی کے لئے ریلیف کا باعث بنے۔

اِسی مناسبت سے جرمنی کی ہر وزارت کو مسائل کا سامنا ہے اور اِس کی بنیادی وجہ جرمن اقتصادیات میں پائی جانی والی سست رفتار شرح نموہے۔ جب تک جرمن معیشت تیز رفتاری سے اپنے پیداواری حجم کو نہیں بڑھاتی تب تک تمام شعبوں میں مسائل کم وبیش اِسی انداز میں رہیں گے۔ یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ جرمنی کی دیکھا دیکھی کچھ اور یورپی ملک بھی ٹیکس کی مد میں چھوٹ دینے کی بات کرنے لگے ہیں۔ ان میں اٹلی اور سویڈن اہم ہیں لیکن اسپین میں صورت حال اس کے برعکس ہے جہاں ٹیکسوں میں اضافے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔