1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی امریکی پابندیاں جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہیں، ایران

ایران نے کہا ہے کہ اس کے خلاف عائد کردہ نئی امریکی پابندیاں سن دو ہزار پندرہ میں ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکا نے ایرانی راکٹ لانچ کی مذمت کی ہے۔

Iran Vizeaußenminster Abbas Araghchi (picture-alliance/AP Photo/N. Salemi)

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی حکام کے مطابق کئی برسوں کی کوشش کے بعد بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا گیا تھا لیکن نئی پابندیوں کے ذریعے امریکا اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز پابندیوں سے متعلق مسودے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے ساتھ ہی یہ نئی پابندیاں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی امریکی پابندیوں کا ’مناسب طریقے سے جواب‘ دیا جائے گا۔

قبل ازیں امریکا کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں لبنانی تنظیم حزب اللہ کی حمایت، میزائل پروگرام جاری رکھنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے کی وجہ سے عائد کی جائیں گی۔

ایرانی راکٹ پروگرام کی مذمت

دوسری جانب جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکا نے ایران کے راکٹ پروگرام کی مذمت کی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ ان کا راکٹ پروگرام جوہری معاہدے کے عین مطابق ہے لیکن مغربی طاقتوں کی رائے اس سے مختلف ہے۔

ایران امریکا کشیدگی: تہران اپنے میزائل تجربات جاری رکھے گا

ایران نے ستائیس جولائی کو سیٹلائٹ راکٹ لانچ کیا تھا، جس کے جواب میں بدھ کے روز فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر اس کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا ہے۔

سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کا راکٹ تین سو کلومیٹر سے زائد رینج کا تھا اور  اسے بیلیسٹک میزائل کے طور پر بھی ڈیزائن اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ راکٹ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

 

DW.COM