1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نئی امریکی جوہری پالیسی کا اعلان آج ہوگا

وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ آج منگل کے روز اپنی نئی جوہری پالیسی کا اعلان کر دے گی۔ یہ اعلان امریکہ میں بین الاقوامی جوہری کانفرنس کے انعقاد سے صرف ایک ہفتے قبل کیا جا رہا ہے۔

default

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس کے مطابق ان دستاویزات میں غیر جوہری حربی صلاحیت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ گبس کے مطابق اس پالیسی کے اعلان کا بنیادی مقصد 12 اپریل کو شروع ہونے والی دوروزہ بین الاقوامی جوہری سمٹ سے قبل ماحول کو سازگار بنانا ہے۔ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے مطابق صدر باراک اوباما نے گزشتہ ماہ ملک کے جوہری اثاثوں میں ’’ڈرامائی کمی‘‘ کی منصوبہ بندی مکمل کر لی اور ان کی انتظامیہ اپنے کئی بیانات میں جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کا ذکر کر چکی ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے متعلق اس پالیسی میں یہ طے کیا گیا ہے کہ دفاع کے دوسرے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کر کے ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس پالیسی میں روایتی اسلحے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور زیر زمین اہداف کو نشانہ بنانے والے ’بنکر بسٹر‘ جوہری ہتھیاروں پر بھی پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔

APEC Obama und Medvedev Flash-Galerie

امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں

’نیوکلیئر پوسچر ری ویو‘ نامی اس جوہری نظر ثانی پالیسی کا اجراء صدر اوباما کی ان کے روسی ہم منصب دیمتری میدویدیف سے پراگ میں جوہری تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر دستخطوں کے لئے ہونے والی ملاقات سے صرف ایک روز قبل کیا جائے گا۔

روس اور امریکہ ابھی حال ہی میں نئے سٹارٹ معاہدے پر متفق ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک طویل مذاکرات کے بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی پر آمادہ ہوئے۔ امریکہ کے پاس اس وقت قریب 2200 جبکہ روس کے پاس تقریبا 3000 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اس نئے سٹارٹ معاہدے کے تحت ان کی تعداد بالترتیب 1500 اور 1650 کر دی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سے قبل جوہری تخفیف اسلحہ کا معاہدہ سٹارٹ ون 1991ء میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی مدت گزشتہ برس دسمبر میں مکمل ہو گئی تھی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM