1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میں ’پورے امریکا کی‘ صدر ہوں گی، ہلیری کلنٹن

امریکا کی سابق سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بطور صدارتی امیدوار اپنی نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ پورے امریکا کی صدر ہوں گی، بھلے کسی نے انہیں ووٹ نہ بھی دیا ہو۔

امریکا کی سابق خاتون اول اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کے طور پر اپنی نامزدگی کو قبول کرنے کا یہ اعلان گزشتہ شب یعنی جمعرات 28 جولائی کو پارٹی کنونشن کے چوتھے اور آخری روز اپنے خطاب میں کیا۔ امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن میں ملک بھر سے چار ہزار سات سو سے زیادہ مندوبین شریک تھے۔

ہلیری کلنٹن ایسی پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے اس عہدے کے لیے امریکا کی کسی بڑی پارٹی کی طرف سے نامزدگی حاصل کی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اُن کی اولین ترجیح ہو گی۔ کلنٹن نے اس موقع پر وعدہ کیا کہ اگر وہ صدر بنیں تو تمام امریکیوں کے لیے جدوجہد کریں گی، بھلے ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہو یا ری پبلکن پارٹی سے اور بھلے انہوں نے صدارتی انتخابات میں انہیں ووٹ دیے ہوں گے یا نہیں۔

امریکی ڈیموکریٹس نے دوسری مرتبہ تاریخ رقم کر دی

کیا سیاہ فام امریکی ٹرمپ کو ووٹ دیں گے؟

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلیری کلنٹن نے اس موقع پر امریکا کے بارے میں اپنے ری پبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے اس دعوے پر طنز کرتے ہوئے کہ وہ اکیلے ہی امریکا کے مسائل حل کر سکتے ہیں، کلنٹن کا کہنا تھا، ’’وہ ہمیں باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے درمیان تقسیم ڈالنا چاہتے ہیں۔‘‘

کنونشن میں شریک ڈیموکریٹک مندوبین سے خطاب کے دوران کلنٹن کا ٹرمپ کے حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’وہ ری پبلکن پارٹی کو ’امریکا میں صبح‘ سے بہت دور ’امریکا میں نصف شب‘ جیسے مقام پر لے جا چکے ہیں۔ وہ ہم میں مستقبل کا خوف اور ایک دوسرے سے خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

میں برنی سینڈرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور آپ کے تمام حامیوں کا بھی جو یہاں موجود ہیں اور پورے ملک میں موجود ہیں، ہلیری کلنٹن

میں برنی سینڈرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور آپ کے تمام حامیوں کا بھی جو یہاں موجود ہیں اور پورے ملک میں موجود ہیں، ہلیری کلنٹن

کلنٹن نے اس موقع پر ڈیموکریٹک پارٹی میں ہی صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شریک اپنے حریف برنی سینڈرز کے حامیوں کی طرف بھی دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کی آوازیں سن لی گئی ہیں: ’’میں برنی سینڈرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور آپ کے تمام حامیوں کا بھی جو یہاں موجود ہیں اور پورے ملک میں موجود ہیں۔ میں آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کی آواز سن لی ہے۔‘‘ کلنٹن نے مزید کہا، ’’آپ کا نصب العین، ہمارا نصب العین ہے۔‘‘

رواں برس آٹھ نومبر کو مجوزہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کامیاب ہونے کی صورت میں اڑسٹھ سالہ ہلیری کلنٹن امریکا کی پہلی خاتون صدر بن جائیں گی۔