1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’میں پاکستان کا نوکر ہوں‘، جمی انجینیئر کا خصوصی انٹرویو

معروف پاکستانی مصور اور انسانی حقوق کے کارکن جمی انجینیئر سات سے بارہ اکتوبر تک برلن میں پاکستانی سفارت خانے کے مہمان ہیں۔ ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ خود کو پاکستان کا نوکر سمجھتے ہیں۔

جمی انجینیئر 1954ء میں بلوچستان کے شہر لورالائی میں پیدا ہوئے تھے۔ لاہور کے معروف نیشنل کالج آف آرٹس میں انہوں نے تعلیم حاصل کی لیکن ڈگری مکمل کرنے سے قبل ہی انہوں نے یہ سلسلہ ختم کر دیا۔ ان کے فن پاروں اور کیلیگرافی کی بہت سی نمائشیں بیس سے زائد ممالک میں منعقد کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند اور علامہ اقبال کے جاوید نامہ کو بڑی خوبصورتی سے اپنے فن کے ذریعے اظہار کا موضوع بنایا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے جرمنی میں پاکستانی سفیر سید حسن جاوید کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ثقافتی سفارت کاری کے سلسلے میں منعقد ہونی والی ایک تقریب میں شرکت بھی ان کے جرمنی آنے کی وجوہات میں شامل ہے۔ جمی انجینیئر مصوری کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بہت سرگرم ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں مختلف مقاصد کے لیے متعدد ’واکس‘ بھی کی ہیں۔

ڈی ڈبلیو: آپ اپنا وقت مصوری اور سماجی سرگرمیوں میں کس طرح سے تقسیم کرتے ہیں؟

جمی انجینیئر : میں مصوری بھی کرتا ہوں، سوشل ورک بھی کرتا ہوں، انسانی حقوق اور امن کے لیے کام بھی کرتا ہوں۔ میں یہ چار پانچ چیزیں ایک ساتھ کرتا ہوں اور میرے پاس وقت اس لیے ہوتا ہے کہ میں اپنی سوچ اور ضمیر کے مطابق کام کرتا ہوں۔ جب انسان اپنی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے، تو اس کے پاس کافی وقت ہوتا ہے۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ میں صرف مصوری کروں اور دکھی انسانیت کے لیے نہ سوچوں۔ اسی لیے میں نے یہ سب کام اکٹھے کیے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: بطور مصور آپ کی صلاحیتیں کس انداز میں آپ کی سماجی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں؟

جمی انجینیئر: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی چیز کسی دوسری پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سماجی سرگرمیوں میں مجھے لوگوں کا درد سمجھنے کی ضرورت ہے اور میں ان کا درد سمجھنے کے لیے ان کے پاس جاتا ہوں۔ میرا آرٹ ایک خیالی انسان کا تصور پیش کرتا ہے۔ جب میں انسانی حقوق کے لیے کام کرتا ہوں، تو مجھے اپنے مزاج میں جارحانہ پن لانا پڑتا ہے اور جب میں امن کے لیے کام کرتا ہوں تو میں بہت سکون اور پیار سے بولتا ہوں۔ آرٹ میں میری انسپیریشن یا تحریک عام انسان ہے۔

ڈی ڈبلیو: آپ نے تقسیم ہند کو کینوس پر بڑی خوبصورتی سے نقش کیا ہے؟ تقسیم ہند آپ کے لیے اتنا اہم موضوع کیسے بنا حالانکہ آپ کی پیدائش اس دور کے بعد ہوئی؟

جمی انجینیئر: میں پاکستان بننے کے سات سال بعد پیدا ہوا تھا۔ میں نے اس بارے میں کچھ پڑھا بھی نہیں تھا۔ لیکن 1973ء میں مجھے تقسیم کے دوران رونما ہونے والے واقعات خواب میں آتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ جلتی ہوئی ٹرینیں، جلتے ہوئے گاؤں، ایک دوسرے کو مارتے ہوئے اور بھاگتے ہوئے لوگ، یہ سب کیا ہے؟ پھر میں نے ایک صوفی سے رابطہ کر کے انہیں اپنے خوابوں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ میں اس وجہ سے سو نہیں پاتا۔ اس پر اس صوفی نے مجھے بتایا کہ یہ سارے خواب تو 1947ء کی منظر کشی ہیں۔

انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ مجھے اپنے خوابوں کو تصویری شکل دینی چاہیے تاکہ یہ میرے ذہن سے نکل جائیں۔ پھر میں نے1974ء میں یہ تصاویر بنانی شروع کیں اور یہ سلسلہ 1981ء تک جاری رہا۔ یہ ساری تصاویر ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائی گئیں جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

ڈی ڈبلیو: جاوید نامہ کو پینٹ کرنا کیا آپ کے روحانی تجربات کی فنکارانہ عکاسی ہے؟

جمی انجینیئر: 1979ء یا 1980ء کی بات ہے کہ علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال نے مجھے بلایا اور مجھے علامہ کے خط پڑھنے کو دیے۔ ان میں علامہ کی خواہش تھی کہ کوئی مصور جاوید نامہ پینٹ کرے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ صرف ایک آرٹسٹ یہ کام نہیں کر سکتا۔ یہ نقاشی صرف وہ کرسکتا ہے، جس میں علم الٰہی ہو گا۔ علامہ اقبال نے یہ بھی لکھا تھا کہ جو شخص جاوید نامہ کو تصویری شکل دے گا، اس کا دنیا میں بہت نام ہو گا۔ پھر میں نے ایک سال کے دوران یہ پینٹنگز مکمل کر لیں۔ اس کے بعد اس مصوری کو پوری دنیا کو دکھایا گیا۔ مجھے پاکستان کے قومی شاعر کی خواہش پوری کرنے پر بہت خوشی تھی۔ میرا دل تو بہت چاہتا ہے کہ میں علامہ کے کلام کے اور بھی حصوں کو پینٹ کروں، لیکن میرے پاس وقت نہیں ہے اور اگر کوئی اور یہ کام انجام دے تو مجھے دلی خوشی ہو گی۔ جاوید نامہ پینٹ کرنا میرے لیے ایک چیلنج تھا کیونکہ کئی دیگر مصور اسے کینوس پر اتارنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

ڈی ڈبلیو: مصوری کی دنیا میں آپ سب سے زیادہ کس سے متاثر ہیں؟

جمی انجینیئر: یہ سوال اکثر مجھ سے پوچھا جاتا ہے اور میرا جواب ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کا ایک نام ’المصور‘ بھی ہے اور وہ سب سے عظیم آرٹسٹ ہے اور میں اللہ کا ہی شاگرد ہوں۔ مجھے وہیں سے فیض ملتا ہے۔ میں اپنی پوری زندگی بس ایسا شاگرد ہی بنا رہنا چاہتا ہوں۔

ڈی ڈبلیو: آپ اپنے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ آپ نے خود کو پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ اس بارے میں کچھ بتائیں گے؟

جمی انجینیئر: میں فیصل آباد کے صوفی برکت علی کا ماننے والا ہوں۔ 1979ء میں ایک مرتبہ انہوں نے مجھے اپنی گدی پر بٹھایا اور وہاں موجود بچوں سے کہا کہ وہ کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھیں۔ قومی ترانہ ختم ہونے کے بعد بابا جی نے کہا، ’’کام ہو گیا۔‘‘ تب میں نے عرض کیا، ’’کیا کام ہو گیا؟‘‘ جواب میں بابا جی بولے، ’’تم پاکستان کے نوکر ہو۔‘‘ اس کے بعد سے یہی میرا عہدہ ہے اور یہی میری ذمہ داری۔ مجھے کوئی آرٹسٹ کہے یا کچھ اور، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر کوئی مجھے پاکستان کا نوکر کہے تو میں بہت خوش ہوتا ہوں۔

کیلیگرافی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر جمی انجینیئر نے کہا کہ یہ کام انہوں نے صرف انسانی بہبود کے لیے کیا ہے اور اب تک وہ اپنی کیلیگرافی کے دو ہزار سے زائد نمونے عطیہ کر چکے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کے آخری حصے میں جمی انجینیئر نے کہا کہ انہیں پورا پاکستان عزیز ہے۔ ان کے بقول صرف الفاظ سے اس ملک کی خدمت نہیں کی جا سکتی بلکہ اس ملک کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق صرف ’ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں‘ کہنا ہی کافی نہیں بلکہ پاکستان صرف اسی وقت ترقی کرے گا جب ’ہماری سوچ بدلے گی اور ضمیر جاگے گا‘۔

Audios and videos on the topic