1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میں مشعل نہیں اٹھاؤ‎ں گا، بھوٹیا

بھارتی فٹ بال ٹیم کے کپتان بھائی چنگ بھوٹیا نے اولمپک مشعل کو اٹھا کر دوڑنے سے انکار کردیا ۔ انہوں نے یہ فیصلہ تبت سے عوام سے یکجہتی کے طور پر کیا۔

گزشتہ برسوں کے دوران ایک روایت قائم ہو گئی ہے کہ ، اولمپک سے قبل ، اولمپک مشعل کو مختلف ممالک کے ، مشہور کھلاڑی لے کر اپنے ملک میں دوڑتے ہیں۔بھائی چنگ بھوٹیا ، ابھی تک وہ پہلے کھلاڑی ہیں کہ جنہوں نے اولمپک مشعل کو اٹھا کر یہ اس کے ساتھ دوڑنے سے انکار کیا ہے۔ 31 سالہ بھوٹیا نے اپنے مو قف کو واضع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تبتی عوام سے ہمدری رکھتے ہیں اور ان کے سیاسی مقصد کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے کھیلوں کے ممتاز تجزیہ نگار Novy Kapadiaکا خیال ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور اس کا کوئی خاص نتیجہ براآمد نہیں ہوگا۔Novy Kapadia نے مزید کہا کہ کھیل میں سیاست کو داخل کرنا ایک نا مناسب عمل ہے۔ اور اگریہ احتجاج ایک روایت بن گیا تو کسی بھی ملک کےلئے کھیلوں کے مقابلے منعقد کرانا نا ممکن ہو جائے گا۔

گزشتہ ہفتے جب اولمپک مشعل یونان کے شہر Olympia سے روانہ ہوئی تو بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔ اس وقت اولمپک مشعل یوکرائن میں موجود ہے۔ لیکن یونان کے برعکس یوکرائن میں کوئی بھی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

بھائی چنگ بھوٹیا نے اپنے فیصلے سے بھارت کی اولمپک کمیٹی کو آگاہ کر دیا ہے ۔ ان کے اس اقدام پر تبت کی جلا وطن حکومت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا اگر بھائی چن اگروہ یہ قدم تبت کے عوام سے ہمدردی کے طور پراور انسانی حقوق کے پامالیوں کی خلاف اٹھا رہے ہیں تو ہم اس کی تائید کرتے ہیں لیکن اگر وہ اس طرح اولمپک کے بائیکاٹ کرناچاہتے ہیں تو اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ نووی کپاڈیا کے مطابق بھائی چنگ بھوٹیا کے اس فیصلے کا دوسرے کھلاڑیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اولمپک مشعل سترہ اپریل کو بھارت پہنچے گی اور اس کے ساتھ دوڑنے کے لئے کھیلوں کی کئی اہم شخصیات کو دعوت دی گئی ہے۔