1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میں غدار نہیں ہوں، احمد وقاص گورایہ

پاکستان میں گزشتہ ماہ  اغوا کیے جانے والے بلاگر احمد وقاص گورایہ نے بازیابی کے بعد پہلی مرتبہ اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ تاہم اس دوران انہوں نے اپنے اغوا کاروں کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریز کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے احمد وقاص گورایہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ گورایہ کے بقول، ’’مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں اب کبھی واپس نہیں لوٹ سکوں گا۔ میں اپنے بیٹے اور اہل خانہ کو دوبارہ سے نہیں مل سکوں گا۔‘‘ گورایہ جنوری کے آخر میں رہائی کے فوراً بعد ہالینڈ آ گئے ہیں، جہاں وہ گزشتہ ایک دہائی سے رہائش پذیر ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر سرگرم مزید تین افراد کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہ تو وہ پاکستان کے خلاف ہیں اور نہ ہی اسلام کے، ’’میں حکومتی پالیسیوں کا ناقد ہوں کیونکہ میں ایک بہتر پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘  اس بات چیت کے دوران انہوں نے بار بار ’غداری‘ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ ایک محب وطن ہیں۔

گورایہ کے بقول ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے وہ حلقے، جنہوں نے ان پر توہین رسالت کے الزامات عائد کیے تھے، وہ یورپ میں بھی ان کے پیچھے آ سکتے ہیں۔ اے ایف پی سے باتیں کرنے کے دوران وہ کئی مرتبہ مشتعل بھی ہوئے۔ گورایہ کے مطابق انہیں ہالینڈ میں موجود پاکستانی برادری سماجی ویب سائٹس کے ذریعے توہین رسالت کا مرتکب ٹھہراتی رہی ہے، جس کی وجہ سے انہیں اس سلسلے میں پولیس سے رابطہ کرنا پڑا، ’’ مجھے لوگوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ دنیا پاگل ہے۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی ملکی تنظیموں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا خیال ہے کہ جنوری کے اوائل میں انٹرنیٹ پر سرگرم ان پانچ افراد کی اچانک گمشدگی کے پیچھے ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے کیونکہ حکومتی ادارے ماضی میں بھی ایسے کرتے رہے ہیں۔ حکام نے اس گمشدگی میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ گورایہ بھی دیگر سرگرم  افراد کی طرح مذہبی انتہاپسندی اور ملکی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں تاہم اپنے تازہ انٹرویو میں انہوں نے اپنے اغوا کاروں کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا اور نہ ہی انہوں نے گمشدگی کے دوران کے حالات بیان کیے۔

گورایہ گزشتہ دس سالوں سے ہالینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2016ء کے آخر میں لاہور منتقل ہونے کے حوالے سے امکانات تلاش کرنے کے لیے پاکستان گئے تھے، ’’میں پانچ سال بعد ہی ہالینڈ کی شہریت حاصل کر سکتا تھا مگر ہم نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کیونکہ اس کا مطلب پاکستانی پاسپورٹ واپس دینا تھا۔‘‘ گورایہ نے مزید بتایا کہ ان کا مستقل طور پر پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کا منصوبہ تھا تاہم،’’اب زندگی کی از سر نو منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔‘‘