1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میں شرط لگا سکتا ہوں کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہے گا‘

آج تئیس جون کو برطانوی شہری یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شُلز کے مطابق یہ ایک عقلی فیصلہ ہے اور اس کا جواب صرف ’’ہاں‘‘ ہی ہو سکتا ہے۔

اگر مارٹن شُلز کوئی شرط لگاتے تو اس بات پر لگاتے کہ برطانیہ یورپی یونین میں ہی رہے گا۔ لیکن برطانیہ کیوں لازمی طور پر یورپی یونین میں ہی رہے گا؟ یورپی پارلیمان کے صدر اس بارے میں کہتے ہیں، ’’برطانیہ یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت ہے، جی سیون میں شامل ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والا ملک ہے۔ برطانیہ کے بغیر یورپی یونین معاشی اور سیاسی طور پر خود کمزور ہو جائے گی۔‘‘

اس کے علاوہ یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد کئی دیگر ملک بھی اس کی پیروی کر سکتے ہیں اور اس طرح یورپی یونین ریزہ ریزہ ہو سکتی ہے۔ تاہم مارٹن شُلز کے مطابق ’’بریگزٹ‘‘ سے متعلق صرف یورپی یونین کو ہی فکرمند نہیں ہونا چاہیے، ’’برطانیہ کیوں جی سیون کا رکن ہے اور وہ کیوں یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت ہے؟ کیوں کہ اسے یورپ بھر کی مارکیٹ تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔ اگر وہ یونین کا حصہ نہیں رہتا تو اس کے بذات خود حالات ٹھیک نہیں رہیں گے۔‘‘

Martin Schulz Präsident EU Parlament Porträt

اگر مارٹن شُلز کوئی شرط لگاتے تو اس بات پر لگاتے کہ برطانیہ یورپی یونین میں ہی رہے گا

برطانیہ اس وقت اپنی نصف سے زائد مصنوعات یورپی یونین میں برآمد کرتا ہے اور برطانوی نصف سے زائد مصنوعات یورپی یونین میں شامل ممالک استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کس قدر معاشی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یورپی مارکیٹ تک رسائی، معیشت اور قومی سیاست، ان سب کا تعلق عقل سے ہے لیکن وہ جذبات کدھر ہیں کہ برطانوی ایک متحد یورپ میں رہنا چاہتے ہیں؟ اس بارے میں یورپی پارلیمان کے صدر کا کہنا تھا، ’’میں شرط لگا سکتا ہوں کی برطانوی شہریوں کی اکثریت یورپی یونین میں رہنے کو ترجیح دے گی۔ لیکن یہ جذباتی نہیں بلکہ عقلی اور عملی وجوہات کی بنیاد پر ہوگا اور یہ بری چیز بھی نہیں ہے کہ لوگ ہمیشہ جذبات کی بجائے عقلی یا اپنے مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔‘‘

آج کے ریفرنڈم میں برطانوی اگر عقلی بنیادوں پر فیصلہ کرتے ہیں تو تقریباﹰ 43 برس پہلے یورپی یونین کا حصہ بننے والا یہ ملک یورپی یونین میں مزید فعال کردار ادا کر سکتا ہے اور اگر برطانوی عوام کے جذبات سے کھیلنے والے کامیاب رہے تو یہ سب کے لیے ایک حیران کن بات ہو گی۔ مارٹن شلز کے مطابق اگر واقعی ریفرنڈم کے نتائج حیران کن ہوئے تو یہ ایک انتہائی غلط فیصلہ ہوگا۔