1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میں سب کو معاف کرنے پر تیار ہوں، آمنہ جنجوعہ

پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم تنظیم ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ حکومت کا یہ بیان ماننے سے انکاری ہیں کہ ان کے شوہر مسعود جنجوعہ کو چھ سال قبل القاعدہ نے قتل کر دیا تھا۔

default

سپریم کورٹ نے مسعود جنجوعہ اور ان کے ساتھ لاپتہ ہونے والے فیصل فراز کے متعلق حقائق بتانے کے لیے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مسعود جنجوعہ اور فیصل فراز کے مقدمے کی سماعت کی۔ اس موقع پر آمنہ مسعود نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے اس بیان کو غلط قرار دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسعود جنجوعہ اور فیصل فراز کو چھ سال قبل القاعدہ نے دھوکہ دہی کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ آمنہ مسعود نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق مسعود جنجوعہ اور فیصل خیریت سے ہیں اورانہیں راولپنڈی اور اسلام آباد میں الگ الگ خفیہ مقامات پر رکھا گیا ہے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے کہا کہ جس مقام کی یہ نشاندہی کر رہی ہیں وہاں پر خفیہ اداروں کے مطابق ان کا کوئی سیل نہیں۔ اس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اس کی مزید کارروائی اب ان کے چیمبر میں ہوگی۔

بعد ازاں آمنہ مسعود نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ عدلیہ سے امید ہے کہ ہمیں یہیں سے انصاف ملے گا۔ مسعود جنجوعہ ، فیصل فراز بالکل زندہ ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق ان کی صحت نازک ہے، خراب ہے لیکن وہ زندہ ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب چھ سال سے کوئی غیر قانونی حراست میں رہے گا، جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچے گی تو اس کی کیا حالت ہو گی‘‘۔

Logo der Organisation Freedom House

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر گزشتہ ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ ایک خفیہ ادارے میں تعینات میجر جنرل نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کو حلفیہ طور پر بتایا تھا کہ مسعود جنجوعہ اور فیصل فراز کا تعلق القاعدہ سے تھا۔ ان دونوں نے القاعدہ کو ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر مہیا کیا تھا، جس میں خفیہ چپ رکھی گئی تھی۔ القاعدہ نے اس خفیہ چپ کو ڈھونڈ نکالا اور یوں ڈبل ایجنٹ کے شبے کے میں ان دونوں کو قتل کر دیا۔ لیکن آمنہ مسعود کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر زندہ ہیں اور اگر انہیں رہا کر دیا جائے تو وہ انکے اغواء کاروں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ اغواء کاروں کو احساس ہی دلایا جا سکتا ہے کہ آپ ایک مظلوم عورت کو، جو ماں ہے، بیوہ، بوڑھی اس کا بیٹا کیوں چھینا ہوا ہے، بیوی کا شوہر کیوں چھینا ہوا ہے، چھوٹے بچے جوان ہو چکے ہیں، کب تک آخر کب تک‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’’میں اپنا ہر حق معاف کرنے کو تیار ہوں میں ان سب کو معاف کرنے کو تیار ہوں جنہوں نے یہ گناہ اور جرم کیے لیکن کم از کم میرا شوہر تو واپس کر دیا جائے‘‘۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی پاکستان میں لاپتہ افراد کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتی ہیں اور اس میں زیادہ تر خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن نے بلوچستان سے متعلق چند روز قبل جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایک سال کے دوران صوبے میں 140 لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ اسی دوران دیگر 143 افراد لاپتہ بھی ہوئے ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق