1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میں زندہ ہوں، ملا منصور

افغان طالبان نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں ملا منصور اختر اپنی ہلاکت کے حوالے سے تمام خبروں کو مسترد کر رہا ہے۔ منصور کے بقول اس کی موت کی خبریں دشمنوں کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے ملا منصور اختر کا یہ پیغام ہفتے کے روز جاری کیا گیا۔ سولہ منٹ دورانیے کے اس پیغام میں ملا منصور کہہ رہا ہے کہ اس کی موت سے متعلق خبریں طالبان کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازش ہے، ’’میں یہ پیغام سب کو یہ بتانے کے لیے جاری کر رہا ہوں کہ میں زندہ ہوں‘‘۔ اس آڈیو پیغام میں ملا منصور کی آواز قدرے مطمئن سنائی دے رہی ہے۔

اسی ہفتے کے دوران منگل سے اب تک مختلف ذرائع ابلاغ نے ملا منصور کی ہلاکت کی خبریں شائع کی تھیں اور یہ واقعہ پاکستانی شہرکوئٹہ کے قریب پش آیا تھا۔ تاہم کچھ خبر رساں اداروں کے مطابق طالبان کا قائد شدت پسندوں کے مابین ہونے والی ایک جھڑپ میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔''کوئٹہ کے قریب کچلاک میں اس سال کے دوران کوئی اجلاس نہیں ہوا اور نہ ہی میری کسی سے کوئی لڑائی ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ دشمنوں کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے‘‘۔

اس آڈیو پیغام کو طالبان کے ترجمان کی جانب ای میل کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے کہ آیا یہ پیغام ملا منصور اختر ہی کی آواز میں ہے یا نہیں۔ تاہم کچھ شدت پسندوں کا خیال ہے کہ یہ آواز ملا منصور کی ہی ہے۔ کابل حکومت کے ترجمان سلطان فیضی کی ٹویٹ کے مطابق اس بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے۔

گزشتہ ماہ ہی افغان طالبان کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں جبکہ سابق رہنما ملا عمر کی ہلاکت کے بعد ملا منصور اختر کو نیا امیر مقرر کرنے کے ساتھ ہی اس شدت پسند تنظیم میں تناؤ سا پیدا ہو گیا تھا۔ کابل میں موجود ایک عسکری ماہر جاوید کوہستانی کے بقول ملا عمر کے انتقال کی خبر پوشیدہ رکھنے کی وجہ سے طالبان آج کل ساکھ کے بحران کا شکار ہیں۔ طالبان کے مطابق انہوں نے ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کو مصلحتاً دو سال تک چھپایا تھا۔ ملا منصور کو رواں برس اکتیس جولائی کو طالبان کا نیا امیر بنایا گیا تھا۔