1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’میں اسامہ کی لاش ڈھونڈوں گا‘: امریکی غوطہ خور

ایک امریکی غوطہ خور نے سمندرمیں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی باقیات ڈھونڈنے کا عزم کیا ہے۔ یہ شخص سمندر کی تہہ میں خزانہ ڈھونڈنے کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔

default

’’میں بالکل سنجیدہ ہوں، میں مذاق نہیں کر رہا۔ میں یہ کام ہر صورت میں کروں گا۔‘‘ یہ الفاظ تھے بل وارن کے۔ 59 سالہ بل کل تعلق سان ڈیاگو سے ہے اور وہ تربیت یافتہ غوطہ خور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحیرہ عرب میں اسکیننگ کی مدد سے اسامہ بن لادن کی باقیات کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا اصل میں وہ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا ان کے صدر باراک اوباما نے اسامہ کی ہلاکت کے حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ سچ بھی ہے یا نہیں؟

بل وارن نے مزید بتایا کہ وہ گزشتہ 35 برسوں سے دنیا بھر میں ڈوب جانے والے بحری جہازوں اور سمندر کی تہہ میں خزانے کی تلاش میں غوطہ خوری کر رہے ہیں۔ بل وارن کے بقول جب انہوں نے القاعدہ کے سربراہ کی باقیات تلاش کرنے کے اپنے مشن کے بارے میں چند تاجروں کو بتایا تو انہوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی حامی بھر لی۔

Tauchender Kameramann

اسکینر کی مدد سے اسامہ بن لادن کی باقیات کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی

ایک اندازے کے مطابق تلاش کے کام میں 4 لاکھ ڈالر تک کے اخراجات آئیں گے۔ بال وارن نے مزید بتایا کہ وہ اگلے مہینے اپنی کیمرہ ٹیم کے ساتھ بھارت سے اپنی اس مہم کی ابتداء کریں گے۔ ان کے بقول جہاز پرایک ایسا اسیکینر نصب کیا جائے گا، جو سمندر کی تہہ میں3 ہزار فٹ تک کی گہرائی میں موجود اشیاء کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس سرگرمی پرآٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ بل نےکہا کہ اگر ان کا یہ مشن کامیاب رہا، تو وہ اسامہ کی باقیات کے نمونے لے کر ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں گے۔ ’’اگر ناکامی ہوئی تو شاید سمندر کی تہہ میں کوئی خزانہ ہمارے ہاتھ لگ جائے‘‘۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ ا س دوران ایک دستاویزی فلم بھی بنائیں گے، جسے وہ بعد میں کسی ٹیلی وژن چینل کو فروخت کریں گے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : شامل شمس

DW.COM