1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میک ماسٹر اسلام آباد میں، پاکستان کے خلاف ’سخت موقف کا عندیہ‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی ایک غیر اعلانیہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔ ایک روز پہلے ہی انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ واشنگٹن پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی انتظامیہ کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی تصور کیا جاتا ہے لیکن دونوں ملکوں کے مابین تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔

ایچ آر میک ماسٹر افغانستان سے پاکستان پہنچے ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ واشنگٹن حکومت اسلام آباد کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتی ہے کیوں کہ پاکستان گزشتہ برسوں کے دوران ایک ناقابل اعتبار اتحادی ثابت ہوا ہے۔

تاہم پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’میک ماسٹر نے وزیر اعظم کو یقین دلایا  ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے تاکہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیائی خطے میں امن اور استحکام لایا جا سکے۔‘‘

Afghanistan US Sicherheitsberater McMaster (picture alliance/AA/Afghan Presidency Handout)

میک ماسٹر کے اس دورے پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کی مستقبل کی پالیسیوں کا اندازہ لگایا جا سکے

میک ماسٹر کے اس دورے پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کی مستقبل کی پالیسیوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔

میک ماسٹر کا افغانستان میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستانی رہنما اس بات کو سمجھیں گے کہ ماضی کے برعکس تمام عسکری گروپوں کے خلاف کارروائی ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ اور یہ کہ پاکستان سفارت کاری سے افغانستان میں اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتا ہے نہ کہ پراکسی جنگ لڑنے سے جس سے تشدد پیدا ہوتا ہے۔

میک ماسٹر کے وفد میں لیزا کرٹس بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق جنوبی اور وسطی ایشیا کے بارے میں سینیئر ڈائریکٹر کے طور منتخب کیا گیا ہے۔  لیزا کرٹس حال ہی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی شریک مصنف بھی ہیں، جس میں بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کرنے والے گروپوں کی حمایت کرنے کی صورت میں امریکا سے پاکستان کے ساتھ ایک اتحادی کا رویہ ترک کرنے اور پاکستان کو ’سفارتی سطح پر تنہا‘ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکی سفارتی خانے کے مطابق امریکی مشیر نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ہے جبکہ دیگر امریکی عہدیداروں نے پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کو تعمیری قرار دیا ہے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’جنرل میک ماسٹر نے پاکستان کی جمہوری اور معاشی ترقی کو سراہا ہے اور ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘‘