1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’میک اِٹ اِن جرمنی‘، جرمنی میں کام او ر قیام

ترقی کی دہلیز پر کھڑے بہت سے ملکوں میں ایسی نوجوان نسل پروان چڑھ رہی ہے، جو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔ ریاضی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر سائنسی علوم کے شعبوں کے ماہرین کی جرمنی جیسے ممالک میں خاص طور پر ضرورت ہے۔

جرمن کاروباری اور صنعتی ادارے ان ممالک کے تربیت یافتہ ماہرین کو جرمنی آنے کی ترغیب دینے کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ وفاقی جرمن حکومت اور روزگار کی جرمن ایجنسی نے ’میک اِٹ اِن جرمنی‘ کے نام سے ایک مشترکہ منصوبہ شروع کر رکھا ہے، جس میں نوجوان غیر ملکی ماہرین جرمنی میں اپنے کام اور قیام کے بارے میں اپنے احساسات بیان کرتے ہیں۔ ان میں سافٹ ویئر کے ماہرین کے ساتھ ساتھ بائیو کیمسٹس اور مکینیکل انجینئرز بھی شامل ہیں اور یہ لوگ انڈونیشیا، ویت نام یا پھر امریکا سے آ کر جرمنی میں کام کر رہے ہیں۔ اُن کے بیان کردہ احساسات سے کم از کم یہی لگتا ہے کہ انہیں یہاں رہنا اور کام کرنا اچھا لگ رہا ہے۔

اسپین کی ماریا کہتی ہیں:’’مجھے جرمنی میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ یہاں میرے لیے پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اور ذاتی طور پر بھی آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔‘‘

’جرمن کاروباری اور صنعتی اداروں کو سالانہ دو لاکھ تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت پڑ رہی ہے‘

’جرمن کاروباری اور صنعتی اداروں کو سالانہ دو لاکھ تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت پڑ رہی ہے‘

ویت نام کے Tung کا کہنا ہے:’’میں روبوٹ ویلڈنگ مشینوں کے لیے سافٹ ویئر تیار کرتا ہوں اور جو کچھ تعلیم کے دوران سیکھا ہے، اُسے عملی شکل دے سکتا ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں کافی حد تک اس ماحول میں رچ بس گیا ہوں، خاص طور پر یہاں کی ویت نامی کمیونٹی میں۔‘‘

ماریا اور ٹُنگ جیسے نوجوانوں کو جرمن ادارے ہنس کر قبول کرتے ہیں۔ جرمن وزیر اقتصادیات فلیپ روئسلر کے مطابق اکثر چھوٹے اور درمیان درجے کے جرمن صنعتی اور کاروباری اداروں کو بھی روزگار کی جرمن منڈی میں اپنے مطلب کے ماہرین نہیں ملتے۔ وہ کہتے ہیں:’’ان اداروں سے پوچھا جائے کہ اُن کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ یہاں تربیت یافتہ ماہرین کافی تعداد میں دستیاب نہیں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق جرمن اداروں کو سالانہ دو لاکھ تک ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘

’میک اِٹ اِن جرمنی‘ نامی ویب سائٹ گزشتہ چند مہینوں سے انٹرنیٹ پر ہے اور اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ صارفین اس ویب سائٹ پر جا چکے ہیں، جن میں سے 80 فیصد کا تعلق بیرونی دنیا سے تھا۔ اس ویب سائٹ پر جرمنی آنے کا راستہ پانچ مراحل میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی ملازمت کی تلاش، ویزا، رہائش کی منتقلی، نئے گھر میں بس جانا اور کنبہ۔ بھارت، انڈونیشیا اور ویت نام میں اب براہ راست ملاقات میں بھی تمام تر معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور یہ کام بین الاقوامی تعاون کی جرمن انجمن GIZ انجام دے گی۔

اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کے وفاقی جرمن وزیر فلیپ روئسلر

اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کے وفاقی جرمن وزیر فلیپ روئسلر

GIZ کی سربراہ تانیا گوئنر بتاتی ہیں:’’ہمارا کام اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارہ اُس تربیت یافتہ نوجوان کو معقول تنخواہ ادا کرے۔ کام شروع کرنے سے پہلے اضافی تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور جرمنی میں بھی ہر مرحلے پر اُن کا ساتھ دیا جاتا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ جرمنی بھی اُن کے لیے ایک نئے وطن کی حیثیت اختیار کر جائے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ کیا ان اعلیٰ تربیت یافتہ نوجوانوں کے اپنے اپنے ملک چھوڑ دینے سے اُن کے آبائی ملکوں کو نقصان نہیں ہو گا۔ اس سوال کے جواب میں GIZ کا کہنا ہے کہ ان ملکوں میں جزوی طور پر تربیت یافتہ نوجوانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اُنہیں اگلے سات تا دس برسوں کے دوران ملکی منڈیوں میں روزگار نہیں دیا جا سکے گا۔ ان ممالک کی حکومتیں بظاہر ان تربیت یافتہ نوجوانوں کے ملک سے باہر جانے پر خوش نہیں لیکن وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ بالآخر ٹیکنالوجی ٹرانسفر، بیرون ملک سے آنے والی رقوم اور پھر ان نوجوانوں کی کسی وقت وطن واپسی کی صورت میں ان کے آبائی ملک فائدے ہی میں رہیں گے۔

اب تک بوسنیا ہیرسیگووینا کے ایسے تقریباً پانچ ہزار بے روزگاروں کو کامیابی سے جرمنی لایا جا چکا ہے، جو نرسنگ کے پیشے سے وابستہ رہ چکے تھے۔ یہی کچھ انڈونیشیا اور ویت نام کے انجینئروں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے۔

S.Kinkartz/aa/ia