1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

میکسیکو میں 164 فٹ قطر کی حامل خلائی دوربین

توقع کی جارہی ہے کہ میکسیکو کے ایک آتش فشاں پہاڑ پر نصب کی جانے والی اس ٹیلی سکوپ کے ذریعے زمین سے 14 ہزار نوری سال کے فاصلے تک موجود کہکشاؤں کی پیدائش اور ان کی تباہی کا نظارہ کیا جاسکے گا۔

default

ایک بہت بڑی سیٹلائٹ ڈش سے مشابہ یہ لارج ملی میٹر ٹیلی سکوپ اس طرز کی خلائی دوربینوں میں اب تک کی سب سے بڑی اور حساس ترین سنگل اپرچر ٹیلی سکوپ ہوگی۔

یہ ٹیلی سکوپ میکسیکو کے مرکزی صوبے پوئیبلا میں موجود سیئیرا نگارا نامی خاموش آتش فشاں کی چوٹی پر نصب کی جائے گی۔ دنیا کی اس سب سے بڑی دوربین کی تیاری پر 115 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ یہ ٹیلی سکوپ کائنات کے سرد ترین مقامات، مالیکیولر بادلوں اور سیاروں سے خارج ہونے والی ریڈی ایشن یا شعاؤں کو پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس کی تیاری میں 12 برس صَرف ہوئے اور اس کی تجرباتی آزمائش سال 2008ء میں کی گئی۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق یہ ٹیلی سکوپ رواں برس کے آخرتک کام شروع کردے گی۔

امریکہ کی میساچیوسٹ یونیورسٹی اور میکسیکو کی INAOE یونیورسٹی کے اس مشترکہ منصوبے سے منسلک محقق راؤل موجیکا کے مطابق اس ٹیلی سکوپ سے حاصل کی جانے والی معلومات ایک تحقیق کا حصہ ہوگی۔ اس منصوبے کے لئے تین چوتھائی سرمایہ میکسیکو کے ادارے کی جانب سے جبکہ ایک چوتھائی حصہ میساچیوسٹ یونیورسٹی کی طرف سے فراہم کیا گیاہے۔

Schwerster Stern entdeckt Flash-Galerie

سائنسدانوں کے مطابق اس نئی ٹیلی سکوپ سے نئے سیاروں اور ان کی فضا سے متعلق معلومات بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔

اس منصوبے سے منسلک موجیکا کے مطابق اس ٹیلی سکوپ کے ذریعے زندگی کے آغاز سے متعلق تھیوریز کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ زمین سے ٹکرانے سے قبل ایسے شہاب ثاقب کا بھی تجزیہ کیا جاسکے گا جو زمین کی طرف بڑھ رہے ہوں۔

ایک اور محقق میگوئل شاویز کے مطابق اس ٹیلی سکوپ کے ذریعے کائنات میں موجود دیگر نظام شمسی کے سیاروں کی آب وہوا کا بھی تجزیہ کیا جاسکے گا کہ وہاں زندگی کی موجودگی کے کتنے امکانات ہیں۔ شاویز کے مطابق اس دوربین کے ذریعے ممکنہ سمندروں اور پودوں وغیرہ کی موجودگی کا بھی کھوج مل سکتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں زندگی موجود ہوگی یا نہیں۔

اس ٹیلی سکوپ سے ابتدائی ڈیٹا حاصل ہونے کے بعد اسے کائنات میں مزید دوری پر موجود کہکشاؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس